کتاب: زاد الخطیب جلد چہارم - صفحہ 22
محترم بھائیو اور دوستو ! آئیے اب اِس خطبہ کے آخر میں اخلاص کے بعض ثمرات ذکر کرتے ہیں۔تاکہ ہمیں یہ پتہ چلے کہ اخلاص سے انسان کو کیا فوائد وثمرات حاصل ہوتے ہیں۔ اخلاص کے ثمرات 1۔دنیا وآخرت میں سربلندی حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : (…إِنَّکَ لَنْ تُخَلَّفَ فَتَعْمَلَ عَمَلًا تَبْتَغِیْ بِہٖ وَجْہَ اللّٰہِ، إِلَّا ازْدَدتَّ بِہٖ دَرَجَۃً وَرِفْعَۃً ) ’’ تمھیں لمبی زندگی دی جائے گی، پھر تم جو بھی ایسا عمل کرو گے کہ اس کے ذریعے تم اللہ کی رضا کے طلبگار ہوگے تو اس کے ساتھ تمھارا ایک درجہ بڑھ جائے گا اور مزید بلندی نصیب ہوگی۔‘‘[1] 2۔خوف اور غم سے نجات اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ﴿ بَلٰی مَنْ اَسْلَمَ وَجْھَہٗ لِلّٰہِ وَ ھُوَ مُحْسِنٌ فَلَہٗٓ اَجْرُہٗ عِنْدَ رَبِّہٖ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَ لَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ﴾[2] ’’ سنو ! جو بھی اپنے آپ کو اللہ کے سامنے جھکا دے اور وہ ( اخلاص و اتباع ِسنت کے ساتھ ) اچھی طرح عمل کرنے والا بھی ہو تو اس کیلئے اس کے رب کے ہاں اجر ہے اور ایسے لوگوں پر کوئی خوف ہو گا او رنہ وہ غمزدہ ہونگے۔‘‘ 3۔پریشانیوں سے نجات جن اعمال وعبادات میں اخلاص ہو، اگر انھیں مشکل گھڑیوں میں وسیلہ بنایا جائے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی جائے تو اللہ تعالیٰ مشکلات سے نجات دیتا ہے اور پریشانیوں سے محفوظ کرلیتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی دلیل اصحاب الغار ( تین غار والوں ) کا مشہور واقعہ ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا کہ تین افراد جب ایک غار میں پھنس گئے تو ہر ایک نے اللہ تعالیٰ کی بارگارہ میں اپنا وہ عمل پیش کیا جو اس نے خالصتا اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے کیا تھا۔اور اس کے ذریعے اس نے اللہ تعالیٰ سے اپنی پریشانی سے نجات پانے کی دعا کی۔چنانچہ ہر ایک نے کہا : [1] صحیح البخاری :3936،صحیح مسلم :1628 [2] البقرۃ2:112