کتاب: زاد الخطیب جلد چہارم - صفحہ 192
خاتون اپنی کھلی چادر کو اپنے سر سے چہرے پر لٹکا لیا کرتی تھی اور جب وہ گذر جاتے تو ہم اپنی چادر ہٹا لیتیں۔‘‘ اسی طرح حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ’’ ہم احرام کی حالت میں (غیر محرم ) مردوں سے اپنے چہرے چھپا لیا کرتی تھیں۔‘‘[1] یہ پاکباز خواتین ِ اسلام اِس قدر باحیا تھیں کہ احرام کی حالت میں، مقدس مقامات پر بھی چہروں کا ننگا ہونا ان کیلئے قابل برداشت نہ تھا ! جبکہ آج کل تو عام دنوں میں اور عام مقامات پر بھی خواتین چہرہ تو دور کی بات پورے اعضائے زینت کی نمائش کرتی رہتی ہیں اور انھیں ذرا بھی شرم نہیں آتی۔ 3۔عطاء بن ابی رباح جو حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے ایک شاگرد تھے، بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : کیا میں تمھیں ایک جنتی خاتون نہ دکھلاؤں ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں۔تو انھوں نے فرمایا : یہ جو کالے رنگ کی عورت ہے، یہ ایک مرتبہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی : مجھے مرگی کا دورہ پڑتا ہے جس سے میں بے پردہ ہو جاتی ہوں۔لہذا آپ اللہ تعالی سے میرے لئے دعا کیجئے۔تو آپ نے فرمایا :(( إِنْ شِئْتِ صَبَرْتِ وَلَکِ الْجَنَّۃُ، وَإِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللّٰہَ أَنْ یُّعَافِیَکِ )) ’’ اگر تم چاہو تو صبر کرو ( اور اگر صبر کروگی تو ) تمھارے لئے جنت ہے۔اور اگر چاہو تو میں اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تمھیں عافیت دے۔‘‘ ( اب اس خاتون نے سوچا کہ ایک طرف صبر کرنے پر آخرت میں جنت کی ضمانت ہے اور دوسری طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم عافیت کیلئے دعا کرنے کی پیش کش فرما رہے ہیں اور اس میں جنت کی ضمانت نہیں ہے۔) تو اس نے کہا : میں صبر ہی کرتی ہوں، تاہم میں مرگی کے دورہ میں بے پردہ ہو جاتی ہوں تو آپ بس یہ دعا کر دیجئے کہ میں کم از کم بے پردہ نہ ہوں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے حق میں دعا فرمائی۔[2] میرے بھائیو اور میری بہنو ! اسے کہتے ہیں حیاء، کہ اس عظیم خاتون کو بیماری کی حالت میں بھی بے پردہ ہونا برداشت نہ تھا، چہ جائیکہ وہ صحت وعافیت کی حالت میں بے پردہ ہوتی۔جبکہ آج کل بے پردہ ہو کر گھروں سے باہر نکلنا اور مردوں کے سامنے اپنی نمائش کرنا خواتین کیلئے انتہائی معمولی بات ہے۔ 4۔حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مجھ سے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے اس وقت شادی کی جب ان [1] صحیح ابن خزیمہ، الحاکم : صحیح علی شرط الشیخین [2] صحیح البخاری :5652، صحیح مسلم :2576