کتاب: زاد الخطیب جلد چہارم - صفحہ 16
2۔عمل کے ثواب کی آخرت میں امید رکھنا۔ 3۔لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہو کر چھپے چھپے عمل کرنے کی کوشش کرنا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے : ( إِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْعَبْدَ التَّقِیَّ الْغَنِیَّ الْخَفِیَّ ) [1] ’’ بے شک اللہ تعالیٰ اس بندے سے محبت کرتا ہے جو پرہیزگار ہو، (لوگوں سے ) بے نیاز ہو اور چھپ چھپ کر عبادت کرتا ہو۔‘‘ 4۔انسان کا ظاہر وباطن ایک جیسا ہو۔یہ نہیں کہ وہ ظاہری طور پر کچھ ہو اور باطنی طور کچھ اور ہو۔کیونکہ یہ نفاق ہے جو اخلاص کے منافی ہوتاہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ﴿ یَقُوْلُوْنَ بِاَلْسِنَتِہِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ﴾ [2] ’’ وہ اپنی زبانوں ایسی باتیں کرتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتیں۔‘‘ 5۔اعمال صالحہ کی عدم قبولیت کا ڈر جس شخص میں یہ ڈر پایا جاتا ہے تو یہ اس کے اخلاص پر دلالت کرتا ہے۔ 6۔خود پسندی، غرور اور تکبر سے اجتناب۔کیونکہ جس شخص میں اخلاص نہیں ہوتا وہ خود پسندی، غرور اور تکبر کا شکار ہو جاتا ہے۔گویا ان چیزوں سے اجتناب کرنا اخلاص کی علامت ہے۔ میرے بھائیو اور بزرگو ! ان علامات کی روشنی میں ہم میں سے ہر شخص یہ فیصلہ کرسکتا ہے کہ کیا اس کے اندر اخلاص پایا جاتا ہے، یا وہ اخلاص سے محروم ہے! مختلف اعمال میں اخلاص کی اہمیت ’ اخلاص ‘ ویسے تو ہر عبادت میں شرط ہے۔تاہم کچھ عبادات کا ہم بطور خاص تذکرہ کرنا چاہتے ہیں جن میں اخلاص کی اہمیت کو واضح کیا گیا ہے۔ 1۔طلب علم میں اخلاص ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( مَنْ تَعَلَّمَ عِلْمًا مِمَّا یُبْتَغٰی بِہٖ وَجْہُ اللّٰہِ،لَا یَتَعَلَّمُہُ إِلَّا لِیُصِیْبَ بِہٖ عَرَضًا مِنَ الدُّنْیَا، لَمْ یَجِدْ عَرْفَ الْجَنَّۃِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ) [3] [1] صحیح مسلم :2965 [2] الفتح48 :11 [3] سنن أبو داؤد:3664۔وصححہ الألبانی