کتاب: زاد الخطیب جلد چہارم - صفحہ 145
دوسرا خطبہ محترم حضرات ! پہلے خطبے میں ہم نے ایمان کی لذت اور اس کے مٹھاس کو پانے کے تین اسباب میں سے دو تفصیل کے ساتھ بیان کئے۔آئیے اب تیسرا سبب بھی قدرے تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔ تیسرا سبب : ایمان پر ثابت قدمی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسرا سبب یوں بیان فرمایا : (( وَأَنْ یَّکْرَہَ أَنْ یَّعُوْدَ فِیْ الْکُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنْقَذَہُ اللّٰہُ مِنْہُ، کَمَایَکْرَہُ أَنْ یُّلْقٰی فِیْ النَّارِ )) ’’اور اسے کفر کی طرف لوٹنا اسی طرح نا پسند ہو جیسا کہ جہنم میں ڈالا جانا اسے نا پسند ہے۔‘‘ یعنی وہ ایمان پر ثابت قدم رہے اور ایمان کو چھوڑ کر کفر کی طرف واپس پلٹنا اسے شدید نا پسند ہو۔کفر سے نفرت اور نا پسندیدگی اتنی ہو جتنی اسے جہنم سے ہے۔ اللہ تعالی اپنے پیارے نبی جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے : ﴿فَاسْتَقِمْ کَمَا أُمِرْتَ وَمَن تَابَ مَعَکَ وَلاَ تَطْغَوْا إِنَّہُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِیْرٌ﴾ [1] ’’ پس آپ راہِ حق پر قائم رہئے جیسا کہ حکم دیا گیا ہے۔اور وہ لوگ بھی جنھوں نے آپ کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع کیا ہے۔اور تم لوگ سرکشی نہ کرو۔بے شک وہ ( اللہ ) تمھارے اعمال کو خوب دیکھ رہا ہے۔‘‘ اور سفیان بن عبد اللہ الثقفی بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا : یا رسول اللہ ! مجھے اسلام کے بارے میں کوئی ایسی بات بتائیں کہ آپ کے بعد مجھے کسی اور سے اس کے بارے میں سوال نہ کرنا پڑے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( قُلْ آمَنْتُ بِاللّٰہِ ثُمَّ اسْتَقِمْ ) [2] ’’ تم کہو : میں اللہ پر ایمان لایا، اس کے بعد ( اُس ایمان پر ) ڈٹ جاؤ۔‘‘ اوراللہ تعالی دین پر استقامت اختیار کرنے والے مومنوں کو خوشخبری سناتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے : ﴿ إِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَیْْہِمُ الْمَلَائِکَۃُ أَلاَّ تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّۃِ الَّتِیْ کُنتُمْ تُوعَدُونَ ٭ نَحْنُ أَوْلِیَاؤُکُمْ فِیْ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِیْ الْآخِرَۃِ وَلَکُمْ فِیْہَا مَا تَشْتَہِیْ أَنفُسُکُمْ وَلَکُمْ فِیْہَا مَا تَدَّعُونَ ٭ نُزُلاً مِّنْ غَفُورٍ رَّحِیْمٍ ﴾ [3] ’’ بے شک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ تعالی ہے، پھر اس ( عقیدۂ توحید اور عمل صالح ) پر جمے رہے ان پر فرشتے ( دنیا میں یا موت کے وقت یا قبر میں ) اترتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم ( آنے والے مراحل سے ) نہ [1] ہود 11: 112 [2] صحیح مسلم : 38 [3] فصلت41 : 30۔32