کتاب: زاد الخطیب جلد چہارم - صفحہ 139
چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : (( فَأنَِّہُ الْآنَ وَاللّٰہ، لَأَنْتَ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ)) ’’ اب اللہ کی قسم ! آپ مجھے میری جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔‘‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :(( اَلْآنَ یَا عُمَرُ)) ’’ اے عمر ! اب ٹھیک ہے۔‘‘[1] رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت کی علامات : 1۔تمام اقوال وافعال میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور پیروی کرنا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو احکامات دئیے ان کی فرمانبرداری کرنا اور جن چیزوں سے منع کیا ان سے پرہیز کرنا۔ 2۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو اپنی تمام نفسانی خواہشات پر فوقیت دینا۔ 3۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے درود شریف بھیجنا۔ 4۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب اعمال سے محبت کرنا۔اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نا پسندیدہ اعمال سے نفرت کرنا اور ان سے اپنے دامن کو بچانا۔ 5۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت اور تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے دلی محبت کرنا۔ 6۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ کی تعظیم کرنا، انھیں پڑھنا، ذہن نشین کرنا اور انھیں لوگوں تک پہنچانا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت کا ایک نمونہ حضرت عائشۃ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا : اے اللہ کے رسول ! آپ مجھے میری جان سے اور اسی طرح میری اولاد سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔اور میں جب گھر میں ہوتا ہوں تو آپ کو یاد کرتا ہوں، پھر میں صبر نہیں کرسکتا یہاں تک کہ آپ کے پاس آؤں اور آپ کو دیکھ لوں۔اور میں جب اپنی موت اور آپ کی موت کو یاد کرتا ہوں تو مجھے یقین ہو جاتا ہے کہ آپ جب جنت میں داخل ہوجائیں گے تو آپ کو انبیاء ( علیہم السلام ) کے ساتھ ( اعلی درجات میں ) بھیج دیا جائے گا۔اور اگر میں جنت میں داخل ہوا تو مجھے اس بات کا اندیشہ ہے کہ میں وہاں آپ کو نہیں دیکھ سکوں گا ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہ دیا یہاں تک کہ حضرت جبریل ( علیہ السلام ) یہ آیت لے کر نازل ہوئے : ﴿وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ فَأُوْلٰئِکَ مَعَ الَّذِیْنَ أَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنَ النَّبِیِّیْنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّہَدَائِ وَالصَّالِحِیْنَ وَحَسُنَ أُوْلٰئِکَ رَفِیْقًا ﴾[2] [1] صحیح البخاری :6632 [2] النساء4 :69