کتاب: زاد الخطیب جلد چہارم - صفحہ 138
پھر جب میں اس سے محبت کر لیتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس کے ذریعے وہ سنتا ہے۔اور اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس کے ذریعے وہ دیکھتا ہے۔اور اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس کے ذریعے وہ پکڑتا ہے۔اور اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس کے ذریعے وہ چلتا ہے۔(یعنی اس کے ان تمام اعضاء کو اپنی اطاعت میں لگا دیتا ہوں ) اور اگر وہ مجھ سے سوال کرتا ہے تو میں اسے ضرور بالضرور عطا کرتا ہوں۔اور اگر وہ میری پناہ طلب کرتا ہے تو میں یقینا اسے پناہ دیتا ہوں۔‘‘ اسی طرح ایک حدیث میں ہے کہ جب اللہ تعالی کسی مومن سے محبت کرلیتا ہے تو جبریل امین علیہ السلام سمیت تمام اہل ِ آسمان اس سے محبت کرلیتے ہیں۔پھر وہ اہل ِ زمین کا بھی محبوب بن جاتا ہے۔[1] رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مومن کی محبت : ایمان کی لذت اور اس کا مٹھاس پانے کیلئے اللہ تعالی سے محبت کے بعد اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی دنیا کی ہر چیز سے بڑھ کر محبت کرنا ضروری ہے، حتی کہ اپنے والدین اور اہل وعیال سے بھی زیادہ۔ جیسا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : (( لَا یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتّٰی أَکُوْنَ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِنْ وَّلَدِہٖ وَوَالِدِہٖ وَالنَّاسِ أَجْمَعِیْنَ )) ’’ تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتایہاں تک کہ وہ اپنی اولاد، اپنے والد اور دیگرتمام لوگوں سے زیادہ مجھ سے محبت کرے۔‘‘[2] بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی جان سے بھی زیادہ محبت کرنا ضروری ہے۔ جیسا کہ عبد اللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا۔اسی دوران حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : (( یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، لَأَنْتَ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ کُلِّ شَیْئٍ إِلاَّ مِنْ نَّفْسِیْ)) ’’ اے اللہ کے رسول! آپ مجھے ( دنیا کی ) ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں، ہاں البتہ میری جان سے زیادہ محبوب نہیں۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (( لَا وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ،حَتّٰی أَکُوْنَ أَحَبَّ إِلَیْکَ مِنْ نَفْسِکَ )) ’’ نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! یہاں تک کہ میں تمہیں تمہاری جان سے بھی زیادہ محبوب ہو جاؤں۔‘‘ [1] صحیح مسلم : 2637 [2] صحیح البخاری : 15، صحیح مسلم :44