کتاب: زاد الخطیب جلد چہارم - صفحہ 13
وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ،لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِیَّاہُ، لَہُ النِّعْمَۃُ وَلَہُ الْفَضْلُ وََلَہُ الثَّنَائُ الْحَسَنُ،لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ وَلَوْ کَرِہَ الْکَافِرُوْنَ ) [1] ’’ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔بادشاہت اسی کی ہے اور تمام تعریفوں کا مستحق وہی ہے۔اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔اللہ کی توفیق کے بغیر نہ برائی سے بچنا ممکن ہے اور نہ ہی عمل خیر کرنا۔اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور ہم اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے۔تمام نعمتیں وہی عطا کرتا ہے، اسی کیلئے ہر قسم کا فضل ہے اور وہی اچھی ثناء کا مالک ہے۔اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ہم دین کو اسی کیلئے خالص کرتے ہیں خواہ کافروں کو ناگوار گزرے۔‘‘ 8۔سچے مومن وہ ہیں جو دین کو اللہ کیلئے خالص کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ﴿ اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ اعْتَصَمُوْا بِاللّٰہِ وَ اَخْلَصُوْا دِیْنَھُمْ لِلّٰہِ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الْمُؤمِنِیْنَ وَ سَوْفَ یُؤتِ اللّٰہُ الْمُؤمِنِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًا ﴾[2] ’’ ہاں وہ لوگ جنھوں نے توبہ کی اور اپنی اصلاح کر لی اور اللہ سے رشتہ مضبوط کر لیا اور اپنا دین اللہ کیلئے خالص کرلیا، تو وہ مومنوں کے ساتھ ہونگے۔اور عنقریب اللہ تعالیٰ مومنوں کو اجر عظیم سے نوازے گا۔‘‘ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے چار صفات ذکر کی ہیں : توبہ، اصلاح اور اللہ کے ساتھ مضبوط رشتہ قائم کرنااور اخلاص ِ دین۔جس شخص میں یہ صفات ہونگی وہ دنیا میں نفاق سے بچ جائے گا۔اور وہ دنیا میں، برزخ میں اور قیامت کے روز مومنوں کے ساتھ ہوگا جن سے اللہ تعالیٰ نے اجر عظیم کا وعدہ فرمایا ہے۔ 9۔اخلاص کا تعلق نیت کے ساتھ ( دل کے ارادے کے ساتھ ) ہے۔اور یہ بات سب کو معلوم ہے کہ اعمال کا دار ومدار بھی نیتوں پر ہے۔یعنی اگر نیت میں اخلاص ہو اور عمل کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کا طلبگار ہو تو اسے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی نصیب ہوگی۔اور اگر ایسا نہیں بلکہ اس کی نیت ریاکاری کرنا یا اپنی تعریف سننا ہے تو اسے وہی چیز ملے گی جس کی اس نے نیت کی۔ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسو ل اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( إِنَّمَا الْأعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ، وَإِنَّمَا لِکُلِّ امْرِیئٍ مَّا نَوَی) [3] [1] صحیح مسلم :594 [2] النساء4:146 [3] صحیح البخاری:1، صحیح مسلم :1907