کتاب: زاد الخطیب جلد چہارم - صفحہ 11
( إِنَّ اللّٰہَ لَا یَنْظُرُ إِلٰی صُوَرِکُمْ وَأَمْوَالِکُمْ، وَلٰکِنْ یَنْظُرُ إِلٰی قُلُوبِکُمْ وَأَعْمَالِکُمْ) [1] ’’ بے شک اللہ تعالیٰ تمھاری شکلوں اور تمھارے مالوں کی طرف نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمھارے دلوں اور تمھارے عملوں کی طرف دیکھتا ہے۔‘‘ 3۔اللہ تعالیٰ اخلاص کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے ارشادفرماتا ہے : ﴿ وَمَآ اُمِرُوْا إِلَّا لِیَعْبُدُوْا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ حُنَفَائَ وَیُقِیْمُوْا الصَّلَاۃَ وَیُؤتُوْا الزَّکَاۃَ وَذٰلِکَ دِیْنُ الْقَیِّمَۃِ ﴾[2] ’’انہیں محض اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ وہ صرف اﷲ تعالیٰ کی عبادت کریں، دین کو بس اسی کیلئے خالص کرتے ہوئے اور شرک وغیرہ سے منہ موڑتے ہوئے۔اور نماز قائم کریں اور زکاۃ ادا کریں۔اور یہی ہے بالکل صحیح اوردرست دین۔‘‘ اس آیت میں ذرا غور کریں، اس میں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ بندوں کو پانچ باتوں کا حکم دیا گیا ہے : ۱۔اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں۔ ۲۔دین کو اس کیلئے خالص کریں، یعنی اس میں غیر اللہ کو شریک نہ کریں۔یہ اس بات کی دلیل ہے کہ تمام عبادات میں اخلاص ضروری ہے۔ ۳۔پھر اسی بات کی مزید تاکید لفظ ِ ﴿حُنَفَائَ ﴾ کے ساتھ کی، یعنی غیر اللہ سے منہ موڑتے ہوئے بس اللہ تعالیٰ کی طرف یکسو ہو کر محض اس کا تقرب حاصل کرنے کی خاطر اس کی عبادت کریں۔ ۴۔نماز قائم کرتے رہیں۔یعنی اسے شروط، فرائض اورآداب کے ساتھ پابندی سے ہمیشہ پڑھتے رہیں۔ ۵۔زکاۃ ادا کرتے رہیں۔ ان پانچ باتوں کا حکم دینے کے بعد فرمایا : ﴿وَذٰلِکَ دِیْنُ الْقَیِّمَۃِ﴾ یعنی یہ پانچوں احکامات بالکل صحیح اور درست دین ہیں۔اس سے ثابت ہوا کہ اخلاص دین ِ اسلام میں شرط ہے۔اور ’ شرط ‘ کا مطلب یہ ہے کہ اخلاص ہے تو دین ہے، اخلاص نہیں تو دین بھی نہیں۔ 4۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ﴿ اَ لَا لِلّٰہِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ﴾[3] ’’ خبر دار ! اللہ کیلئے تو دین خالص ہی ہے۔‘‘ یعنی دین ِ خالص ہی اللہ تعالیٰ کے ہاں قابل قبول ہے۔جس دین میں اخلاص نہ ہو وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں قابل قبول نہیں۔ [1] صحیح مسلم :2564 [2] البیّنۃ98: 5 [3] الزمر3:39