کتاب: زاد الخطیب (جلد2) - صفحہ 539
جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ وَمَنْ یُّشْرِکْ بِاللّٰہِ فَکَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآئِ فَتَخْطَفُہُ الطَّیْرُ أَوْ تَہْوِیْ بِہِ الرِّیْحُ فِیْ مَکاَنٍ سَحِیْقٍ﴾ [1] ’’ اور جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بناتا ہے وہ ایسے ہے جیسے آسمان سے گراہو ، پھر پرندے اسے فضا میں ہی اچک لیں یا تیز ہوا اسے کسی دور دراز جگہ پر پھینک دے ۔ ‘‘ یعنی مشرک کاانجام سوائے تباہی وبربادی کے اور کچھ نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا دوسرا بڑا حکم یہ ہے کہ ہم اس کے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کریں اور آپ کی نافرمانی سے بچیں۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ہم سے راضی ہو گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا ہے ۔اور جب اللہ تعالیٰ راضی ہو گا تو یقینا وہ ہمیں خوشحال اور باوقار زندگی نصیب کرے گا ۔ اور اگر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کریں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے منہ موڑ کر دین میں ایجاد کردہ نئے امور (بدعات ) پر عمل کریں گے تو دنیا میں ( نعوذ باللہ ) ہم پر آزمائشیں ٹوٹ پڑیں گی اور قیامت کے روز ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں حوض کوثر کا پانی نصیب نہیں ہو گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے محرومی سے دوچار ہونا پڑے گا ۔ والعیاذ باللہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ فَلْیَحْذَرِالَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ أَمْرِہٖ أَنْ تُصِیْبَہُمْ فِتْنَۃٌ أَوْ یُصِیْبَہُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ﴾[2] ’’لہٰذا جو لوگ اس ( رسول صلی اللہ علیہ وسلم )کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں انہیں اس بات سے ڈرنا چاہئے کہ کہیں وہ کسی مصیبت میں گرفتار نہ ہو جائیں یا ان پر دردناک عذاب نہ آ جائے ۔ ‘‘ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت تنبیہ کی ہے کہ وہ اپنے اس فعل سے باز آجائیں ، کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کی وجہ سے ان پر کوئی آزمائش یا اللہ کا دردناک عذاب آ جائے ۔ برادران اسلام ! کامیاب وخوشگوار زندگی کا جو پہلا اصول ہم نے ذکر کیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایمان اور عمل صالح کی بناء پرہی ہمیں ایک کامیاب زندگی نصیب ہو سکتی ہے ۔ اور ایمان باللہ کا سب سے بڑا تقاضا یہ ہے کہ ہم عقیدۂ توحید پر قائم رہیں ۔اور ایمان بالرسل کا ایک لازمی تقاضا یہ ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت وفرمانبرداری کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کی روشنی میں زندگی بسر کریں ۔ اس طرح
[1] الحج22 :31 [2] النور24:63