کتاب: زاد الخطیب (جلد2) - صفحہ 501
گے ۔ اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ نے انھیں کوئی ایسی چیز نہیں دی ہو گی جو انھیں اس کے دیدار سے زیادہ محبوب ہو گی اور جس سے ان کی آنکھوں کو زیادہ ٹھنڈک نصیب ہو گی ۔‘‘ ( یعنی جنت میں دیدارِ الہی انھیں جنت کی دیگر تمام نعمتوں کی نسبت زیادہ محبوب ہو گا اور اس سے ان کی آنکھوں کو سب سے زیادہ ٹھنڈک نصیب ہو گی ۔)[1] (۱۶) سب سے اونچے درجے والا اور سب سے نچلے درجے والا جنتی حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ حضرت موسی علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ جنت میں سب سے نچلے درجے والا جنتی کیسا ہو گا ؟ تو اللہ تعالیٰ نے جواب دیا : وہ وہ آدمی ہو گا جو جنت والوں کے جنت میں چلے جانے کے بعد آئے گا ۔ اس سے کہا جائے گا : جنت میں داخل ہو جاؤ ۔ وہ کہے گا : اے میرے رب! میں کیسے جاؤں جبکہ تمام لوگوں نے اپنے اپنے گھر سنبھال لئے ہیں اور سب نے اپنا اپنا انعام وصول کرلیا ہے! اسے کہا جائے گا : کیا تجھے یہ پسند ہے کہ دنیا کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ کی پوری مملکت جیسی مملکت تجھے عطا کردی جائے ؟ وہ کہے گا : اے رب ! میں راضی ہو ں۔ اللہ تعالیٰ کہے گا : میں نے تجھے اس کی مملکت جیسی ایک مملکت ، اس جیسی ایک اور ، اس جیسی ایک اور ، اس جیسی ایک اور ، اس جیسی ایک اور مملکت عطا کردی ہے ۔ وہ کہے گا : اے میرے رب ! میں راضی ہوں ۔ پھر اللہ کہے گا : (( ہٰذَا لَکَ وَعَشْرَۃُ أَمْثَالِہٖ ، وَلَکَ مَا اشْتَہَتْ نَفْسُکَ ، وَلَذَّتْ عَیْنُکَ)) ’’ یہ بھی تیرے لئے ہے اور میں تجھے اس جیسی دس مملکتیں اور عطا کرتا ہوں ۔اور تیرے لئے ہر وہ چیز ہے جس کی تو تمنا کرے گا اور جس سے تیری آنکھوں کو لذت ملے گی ۔ ‘‘ وہ کہے گا : اے میرے رب ! میں راضی ہو گیا ہوں ۔ حضرت موسی علیہ السلام نے کہا : اے میرے رب ! ( یہ تو ہوا نچلے درجے والا جنتی ) تو جنت میں سب سے اونچے درجے والے جنتی کیسے ہو نگے ؟ اللہ تعالیٰ نے کہا : ( أُولٰئِکَ الَّذِیْنَ أَرَدْتُّ غَرَسْتُ کَرَامَتَہُمْ بِیَدِیْ وَخَتَمْتُ عَلَیْہَا ، فَلَمْ تَرَ عَیْنٌ،وَلَمْ تَسْمَعْ أُذُنٌ،وَلَمْ یَخْطُرْ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ) [2] ’’ یہ وہ لوگ ہیں جنھیں میں نے چن لیا ہے اورمیں نے ان کی عزت اپنے ہاتھ سے گاڑھ دی ہے اور اس پر
[1] احمد وابن ماجہ ۔ صحیح الجامع :521 [2] مسلم۔کتاب الایمان باب أدنی أہل الجنۃ منزلۃ فیہا :189