کتاب: زاد الخطیب (جلد2) - صفحہ 123
﴿ لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَکَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُوْنَ وَلِلنِّسَائِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَکَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْہُ أَوْ کَثُرَ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا﴾[1] ’’ والدین اور قریبی رشتہ دار جو مال چھوڑجائیں اس میں مردوں کا حصہ ہوتا ہے ۔ اور والدین اور قریبی رشتہ دار جو مال چھوڑ جائیں اس میں عورتوں کا بھی حصہ ہوتا ہے چاہے مال تھوڑا ہو یا زیادہ ۔ اور یہ حصے اللہ کی طرف سے مقرر کر دئیے گئے ہیں ۔ ‘‘ چنانچہ اسلام نے عورت کو بھی وراثت کا حقدار قرار دیا اور اسے اس سے محروم نہیں کیا ۔ ترکہ میں عورت کو کتنا حصہ دیا گیا ہے اس کی تفصیل سورۃ النساء کے دوسرے رکوع میں موجود ہے ۔ 3۔ باپ کی بیوی کو اس کی موت کے بعد حلال سمجھا جاتا تھا زمانۂ جاہلیت میں ایک بیٹا اپنے باپ کی وفات کے بعد اس کی بیوی ( اپنی سوتیلی ماں ) سے نکاح کرلیتا تھا جبکہ اسلام نے اسے حرام کردیا اور اسے بدکاری ، غضب کا موجب اور بدترین شیوہ قرار دیا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿وَلاَ تَنْکِحُوْا مَا نَکَحَ آبَاؤُکُمْ مِّنَ النِّسَائِ إِلاَّ مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّہُ کَانَ فَاحِشَۃً وَّمَقْتًا وَّسَائَ سَبِیْلاً ﴾[2] ’’ اور ان عورتوں سے نکاح مت کرو جن سے تمھارے باپوں نے نکاح کیا ہے مگر جو گذر چکا ہے ۔ یہ بے حیائی کا کام ، بغض کا سبب اور بڑی بری راہ ہے ۔ ‘‘ تو یہ بھی اسلام میں عورت کی تکریم کی ایک واضح دلیل ہے ۔ 4۔دو بہنوں سے بیک وقت نکاح زمانۂ جاہلیت میں دو بہنوں سے بیک وقت نکاح کرنا درست تھا جبکہ اسلام نے اسے حرام قرار دے دیا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿ حُرِّمَتْ عَلَیْکُمْ أُمَّہَاتُکُمْ ۔۔۔۔وَأَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْأُخْتَیْنِ إِلاَّ مَا قَدْ سَلَفَ﴾[3] ’’ تم پر حرام کردی گئی ہیں تمھاری مائیں ۔۔۔ اور دو بہنوں کو (ایک شخص کے نکاح میں ) جمع کرنا بھی حرام ہے الا یہ کہ جو (عہدِ جاہلیت میں ) گذر چکا ۔ ‘‘
[1] النساء4 :7 [2] النساء 4:22 [3] النساء4 :23