کتاب: زاد الخطیب (جلد1) - صفحہ 612
خطبۂ حجۃ الوداع ۔۔۔۔۔ اور دجال حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں حجۃ الوداع کے متعلق گفتگو کیا کرتے تھے حالانکہ ہمیں معلوم نہ تھا کہ حجۃ الوداع کیا ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حجۃ الوداع کے دوران ) اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء بیان کی ، پھر آپ نے مسیح دجال کا تذکرہ کیا اور اس کے تذکرہ میں مبالغہ کیا اور فرمایا:(( مَا بَعَثَ اللّٰہُ مِنْ نَّبِیٍّ إِلَّا أَنْذَرَہُ أُمَّتَہُ،أَنْذَرَہُ نُوْحٌ وَالنَّبِیُّوْنَ مِنْ بَعْدِہٖ،وَإِنَّہُ یَخْرُجُ فِیْکُمْ،فَمَا خَفِیَ عَلَیْکُمْ مِنْ شَأْنِہٖ فَلَیْسَ یَخْفٰی عَلَیْکُمْ : إِنَّ رَبَّکُمْ لَیْسَ عَلٰی مَا یَخْفٰی عَلَیْکُمْ ۔ ثَلَاثًا ۔ إِنَّ رَبَّکُمْ لَیْسَ بِأَعْوَرَ،وَإِنَّہُ أَعْوَرُ عَیْنِ الْیُمْنیٰ کَأَنَّ عَیْنَہُ عِنَبَۃٌ طَافِیَۃٌ[1])) ’’ اللہ تعالیٰ نے جتنے نبی مبعوث فرمائے سب نے اپنی اپنی امت کو اس (دجال)سے ڈرایا۔ اس سے حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے بعد تمام انبیاء علیہم السلام نے ڈرایا اور وہ یقینا تم میں ظاہر ہو گا ، اس کے بارے میں جو بات تم پر مخفی تھی وہ اب تم پر مخفی نہیں رہنی چاہئے ۔ بے شک تمھارا رب تم پر مخفی نہیں۔ تین بار فرمایا ۔ بے شک تمھارا رب کانا نہیں۔ اور وہ ( دجال ) یقینا دائیں آنکھ سے کانا ہو گا گویا کہ اس کی آنکھ ابھرے ہوئے انگور کے دانے کی طرح ہوگی ۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس خطبۂ حجۃ الوداع میں امت کو فتنۂ دجال سے ڈرایا اوراس کے فتنے کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس سے ہردور میں ہر نبی نے ڈرایا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ تم میں ظہور پذیر ہو گا ۔نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ڈرانے کے ساتھ ساتھ اس کی ایک ایسی علامت بھی بتا دی جو آپ سے پہلے کسی نے نہیں بتائی تھی اور جس سے اسے پہچاننے میں کوئی غلطی نہیں ہو سکتی اور وہ ہے اس کا دائیں آنکھ سے کانا ہونا اور اس سے بھی زیادہ واضح علامت ایک اور حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی اور وہ ہے اس کی پیشانی پر (ک ف ر ) کا لکھا ہونا ۔۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کے فتنہ سے محفوظ رکھے ۔ آمین [1] صحیح البخاری:4402