کتاب: زاد الخطیب (جلد1) - صفحہ 559
کرنا ضروری ہے ۔ 1۔قربانی کا جانور ذبح کرنے سے پہلے چھری کو اچھی طرح تیز کرلیں ۔ حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : (( إِنَّ اللّٰہَ کَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلیٰ کُلِّ شَیْیٍٔ،فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَۃَ،وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذِّبْحَۃَ، وَلْیُحِدَّ أَحَدُکُمْ شَفْرَتَہُ،وَلْیُرِحْ ذَبِیْحَتَہُ[1])) ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر چیزپر احسان کو فرض کیا ہے ۔ لہٰذا جب تم ( قصاص میں ) قتل کرو تو اچھی طرح سے قتل کرو اور جب جانور کو ذبح کرو تو اچھی طرح سے ذبح کرو اور تم میں سے ہر شخص اپنی چھری کو تیز کر لے اور ذبح کئے جانے والے جانور کو سکون پہنچائے ۔ ‘‘ لیکن چھری وغیرہ کو جانور کے سامنے تیز نہیں کرنا چاہئے ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گذرے جس نے ایک بکری کی گردن پر اپنا پاؤں رکھا ہوا تھا اور چھری بھی تیز کر رہا تھا جبکہ بکری اس کی طرف دیکھ رہی تھی ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (( أَفَلَا قَبْلَ ہَذَا؟أَوَ تُرِیْدُ أَنْ تُمِیْتَہَا مَوْتَاتٍ)) ’’ تم نے اِس سے پہلے ایسا کیوں نہ کیا ؟ کیا تم اسے کئی مرتبہ مارنا چاہتے ہو ؟ ‘‘[2] 2۔ بہتر ہے کہ انسان اپنے ہاتھ سے جانور ذبح کرے ۔اگروہ خود نہ کرسکے تو کوئی دوسرا بھی ذبح کرسکتا ہے۔ اسی طرح عورت بھی ذبح کرنا چاہے تو کرسکتی ہے ۔ جانور ذبح کرنے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ اسے بائیں کروٹ لٹائیں ، اپنا پاؤں اس کی گردن پر رکھیں اور ’’بِسْمِ اللّٰہِ اَللّٰہُ أَکْبَر ‘‘ کہہ کر دائیں ہاتھ سے ذبح کردیں ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (ضَحَّی النَّبِیُّ صلي اللّٰه عليه وسلم بِکَبْشَیْنِ أَمْلَحَیْنِ،فَرَأَیْتُہُ وَاضِعًا قَدَمَہُ عَلیٰ صِفَاحِہِمَا ، یُسَمِّیْ وَیُکَبِّرُ ، فَذَبَحَہُمَا بِیَدِہٖ) [3] ’’ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سفید ‘سیاہی مائل مینڈھوں کو قربان کیا ، چنانچہ میں نے دیکھا کہ آپ نے ان کی [1] صحیح مسلم :1955 [2] رواہ الطبرانی وغیرہ وصححہ الألبانی فی صحیح الترغیب والترہیب:1090 [3] صحیح البخاری:5558 ،صحیح مسلم:1966