کتاب: زاد الخطیب (جلد1) - صفحہ 520
کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے، پھر آگے بڑھتے یہاں تک کہ ہموار زمین پر پہنچ جاتے۔ اس کے بعد قبلہ رخ ہو کر لمبی دیر تک کھڑے رہتے اور ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے رہتے۔ پھر درمیانے جمرہ کو کنکریاں مارتے ، پھر بائیں جانب چلے جاتے اور ہموار زمین پر پہنچ کر قبلہ کی طرف رخ کر لیتے اور کافی دیر تک کھڑے رہتے اور ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے رہتے۔ پھر جمرہ عقبہ کو وادی کے بطن سے کنکریاں مارتے اور اس کے بعد کھڑے نہ ہوتے اور چلے جاتے۔ اس کے بعد فرماتے:(ہٰکَذَا رَأَیْتُ النَّبِیَّ صلي اللّٰه عليه وسلم یَفْعَلُہُ) یعنی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا تھا۔[1] 4۔ تینوں جمرات کو کنکریاں مارنے کیلئے کنکریاں منیٰ میں کسی بھی جگہ سے اٹھا سکتے ہیں۔ 5۔ کنکریاںجمرات کا نشانہ لیکر اور حسبِ استطاعت قریب جا کر ماریں۔ 6۔جمرات کو شیطان تصور کرکے انھیں گالیاں دینا یا جوتے رسید کرنا جہالت ہے۔ 7۔ ایامِ تشریق کے فارغ اوقات اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں گذاریں اور زیادہ سے زیادہ اللہ کا ذکر کریں اور باجماعت نمازوں کی پابندی کریں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: { فَإِذَا قَضَیْتُمْ مَّنَاسِکَکُمْ فَاذْکُرُوْا اللّٰہَ کَذِکْرِکُمْ آبَائَ کُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِکْرًا }[2] ’’ پھر جب تم ارکان حج ادا کر لو تو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو جیسا کہ تم اپنے آباء و اجداد کا ذکر کرتے تھے بلکہ اس سے بھی زیادہ ۔ ‘‘ نیز فرمایا : {وَاذْکُرُوْا اللّٰہَ فِیْ أَیَّامٍ مَّعْدُوْدَاتٍ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِیْ یَوْمَیْنِ فَلاَ إِثْمَ عَلَیْہِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلاَ إِثْمَ عَلَیْہِ لِمَنِ اتَّقٰی }[3] ’’ اور گنتی کے چند دنوں میں اللہ کی یاد میں مشغول رہو ، پھر جو شخص دو دن میں جلدی چلا گیا اس پر کوئی گناہ نہیں۔ اور جو پیچھے رہ گیا اس پر بھی کوئی گناہ نہیں اُس کیلئے جو متقی ہے۔ ‘‘ اِس آیت کریمہ سے ثابت ہوا کہ اگر آپ ۱۲ ذوالحج کو ہی منیٰ سے جانا چاہیں تو جا سکتے ہیں بشرطیکہ غروبِ آفتاب سے پہلے کنکریاں مار کر منیٰ کی حدود سے نکل جائیں۔ تاہم ۱۳ کی رات بھی وہیں گذارکر اور پھر تیرہ کو کنکریاں مارنے کے بعد منیٰ سے جانا افضل ہے۔ [1] صحیح البخاری:1751 ،1752 ،1753 [2] البقرۃ2 :200 [3] البقرۃ 2:203