کتاب: زاد الخطیب (جلد1) - صفحہ 514
پیچھے بیٹھا تھا ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بائیں طرف ایک وادی میں جو کہ مزدلفہ سے پہلے ہے اس میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری کو بٹھایا ، پھر آپ نے قضائے حاجت کی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے تو میں نے آپ پر پانی ڈالا اور آپ نے ہلکا سا وضو کیا۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! نماز پڑھنی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (اَلصَّلَاۃُ أَمَامَکَ) ’’ نماز ابھی اور آگے جا کر پڑھیں گے ‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر سوار ہوئے یہاں تک کہ مزدلفہ میں پہنچے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی۔ [1] 6۔ مزدلفہ میں سب سے پہلے مغرب وعشاء کی نمازیں جمع وقصر کرکے باجماعت ادا کریں ، پھر اپنی ضرورتیں پوری کرکے سو جائیں۔ جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشاء کی نمازیں مزدلفہ میں جمع فرمائیں۔ ہر نماز کیلئے الگ الگ اقامت کہی گئی اور ان دونوں کے درمیان اور اسی طرح ان کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نفل نماز نہیں پڑھی۔[2] 7۔ عورتوں کیلئے اوران کے ساتھ جانے والے مردوں اور بچوں کیلئے اور اسی طرح کمزوروں کیلئے جائز ہے کہ وہ آدھی رات کے بعد مزدلفہ سے منیٰ کو چلے جائیں۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے گھر والوں میں سے کمزور لوگ مزدلفہ میں المشعر الحرام کے پاس رات کے وقت وقوف کرتے تھے اور وہ جتنا چاہتے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے۔ پھر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ امام کے وقوف اور اس کے منیٰ کو لوٹنے سے پہلے ہی ان کمزور لوگوں کو مزدلفہ سے جلدی روانہ کر دیتے۔ چنانچہ ان میں سے کوئی نماز فجر کے وقت منیٰ میں پہنچتا اور کوئی اس کے بعد۔ اور وہ جیسے ہی منیٰ میں پہنچتے جمرۂ عقبہ کو رمی کرتے۔ اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ ان لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مزدلفہ سے منیٰ کو جلدی جانے کی ) رخصت دی تھی۔[3] اور حضرت عائشۃ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ ہم نے مزدلفہ میں پڑاؤ ڈالا تو حضرت سودۃ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی کہ وہ لوگوں کے ازدحام سے پہلے وہاں سے منیٰ کو چلی جائیں ؟ وہ بھاری جسم کی مالک تھیں اور بہت آہستہ آہستہ چلتی تھیں۔چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی ، اس لئے وہ لوگوں کے رش سے پہلے ہی روانہ ہو گئیںاور ہم صبح ہونے تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی ٹھہرے رہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی منیٰ کو واپس لوٹیاور اگر میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کر لی ہوتی جیسا کہ سودۃ رضی اللہ عنہا نے [1] صحیح البخاری:1669،صحیح مسلم :1280 [2] صحیح البخاری:1673 [3] صحیح البخاری :1676،صحیح مسلم :1295