کتاب: زاد الخطیب (جلد1) - صفحہ 510
حج کے فضائل ، احکام اور آداب (۲) اہم عناصرِ خطبہ : 1۔حج کے تفصیلی احکام 2۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج مبارک کے متعلق حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی مشہور حدیث 3۔ آدابِ زیارتِ مدینہ پہلا خطبہ گذشتہ خطبۂ جمعہ میں ہم نے قرآن وحدیث کی روشنی میں حج کی اہمیت وفرضیت ، حج کے فضائل ، سفرِ حج کے بعض آداب اور عمرہ کے تفصیلی احکام بیان کئے تھے۔ جبکہ آج کے خطبۂ جمعہ میں حج کے احکام اور اسی طرح آدابِ زیارتِ مدینہ منورہ کوتفصیل سے بیان کرنا مقصود ہے حج کے تفصیلی احکام ۸/ ذو الحج (یوم الترویہ) مکہ مکرمہ میں جہاں آپ رہائش پذیر ہیں وہیں سے حج کا احرام باندھ لیں ۔ احرامِ حج کا طریقہ بھی وہی ہے جو احرامِ عمرہ کا ہے۔ لہٰذا صفائی اور غسل کرکے اور بدن پر خوشبو لگا کر احرام کا لباس پہن لیں۔ پھر’’لَبَّیْکَ اللّٰہُمَّ حَجًّا‘‘ کہتے ہوئے حج کی نیت کر لیں اور تلبیہ شروع کردیں اور دس ذو الحج کو کنکریاں مارنے تک تلبیہ پڑھتے رہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمی کرنے تک تلبیہ جاری رکھا ۔[1] احرام باندھ کر ظہر سے پہلے منیٰ کی طرف روانہ ہو جائیں۔ منٰی میں ظہر ، عصر ، مغرب ، عشاء اور نو ذو الحج کی فجر کی نمازیں قصر کر کے اپنے اپنے وقت پر پڑھیں اور رات کو وہیں قیام کریں۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔[2] حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں ہمیں ظہر ، عصر، مغرب ، عشاء [1] صحیح البخاری:1685 و1670،صحیح مسلم :1281 [2] صحیح البخاری:1653،1655،صحیح مسلم:1309،694