کتاب: زاد الخطیب (جلد1) - صفحہ 477
{وَالَّذِیْنَ تَبَوَّؤُوا الدَّارَ وَالْإِیْمَانَ مِن قَبْلِہِمْ یُحِبُّونَ مَنْ ہَاجَرَ إِلَیْْہِمْ وَلَا یَجِدُونَ فِیْ صُدُورِہِمْ حَاجَۃً مِّمَّا أُوتُوا وَیُؤْثِرُونَ عَلَی أَنفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ وَمَن یُّوقَ شُحَّ نَفْسِہِ فَأُوْلَئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ }[1] ’’ اور وہ لوگ جو ( مہاجرین سے ) پہلے الدار ( مدینہ منورہ ) میں مقیم تھے اور ان کے آنے سے پہلے ایمان لا چکے تھے ، ان کے پاس جو لوگ ہجرت کر کے آئے وہ ان سے محبت کرتے ہیں اور جو کچھ انھیں (مالِ فئے سے ) دیا جائے وہ اپنے دلوں میں اس کی کوئی حاجت نہیں پاتے اور ان ( مہاجرین ) کو اپنی ذات پر ترجیح دیتے ہیں خواہ خود فاقہ سے ہوں اور جو شخص اپنے نفس کی حرص سے بچالیا گیا تو ایسے ہی لوگ کامیاب ہیں ۔ ‘‘ اس آیت ِ کریمہ میں مدینہ منورہ کو(الدار) کہا گیا ہے اور اس میں مدینہ والوں کے فضائل بھی بیان کئے گئے ہیں کہ جنہوں نے اپنے مہاجر بھائیوں کے مدینہ منورہ پہنچنے پر خوشی کا اظہار کیا اورانھیں اپنے گلے سے لگا لیا اور ان کی آباد کاری کے لئے ان سے اتنا تعاون کیا کہ انھیں اپنی جائیداد ، گھر بار اور نخلستانوں میں شریک کر لیا اور انھوں نے ایثار وقربانی کی یادگار مثالیں قائم کیں ۔ ہم ان کے ایثار کے دو منفرد واقعات ذکر کرتے ہیں : (۱) حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول ! میں بہت بھوکا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کے ہاں سے پتہ کرایا لیکن ان کے پاس کچھ نہ ملا [ مسلم کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک بیوی کے ہاں پیغام بھیجا تو انھوں نے کہا:(وَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ مَا عِنْدِیْ إِلَّا مَائٌ) یعنی اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ! میرے پاس سوائے پانی کے اور کچھ بھی نہیں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دوسری بیوی کے ہاں پیغام بھیجا تو ان کی طرف سے بھی یہی جواب ملا ، حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تمام ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے پاس پیغام بھیجا تو سب کی طرف سے یہی جواب ملا کہ ہمارے پاس سوائے پانی کے اور کچھ بھی نہیں ] چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :(أَلا رَجُلٌ یُضِیْفُہُ اللَّیْلَۃَ یَرْحَمُہُ اللّٰہُ؟) ’’کیا کوئی ایساآدمی ہے جو آج رات اس کی مہمان نوازی کرے! اس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو ۔ ‘‘ یہ سن کر ایک انصاری صحابی کھڑے ہوئے اور کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ! میں حاضر ہوں ۔ پھر وہ اس آدمی کو اپنے گھر لے گئے ا ور اپنی بیوی سے کہا : یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مہمان ہے، لہٰذا جو چیز بھی موجود ہو اسے کھلاؤ ۔ اس نے کہا : اللہ کی قسم ! آج تو میرے پاس صرف اپنے بچوں کا کھانا ہی ہے ! [1] الحشر59:9