کتاب: زاد الخطیب (جلد1) - صفحہ 442
6۔ نماز عید ‘عید گاہ میں پڑھنا مسنون ہے ۔ حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یوم الفطر اور یوم الاضحی کو عید گاہ میں تشریف لے جاتے تھے ۔ سب سے پہلے نمازِ عید پڑھاتے پھر لوگوں کے سامنے آتے جو اپنی صفوں میں ہی بیٹھے ہوتے ۔ آپ انھیں نصیحت کرتے ، انھیں وصیت فرماتے اور احکامات دیتے ۔ پھر اگر کوئی وفد روانہ کرنا ہوتا تو اس کے بارے میں فیصلہ کرتے اور اگر کوئی اور حکم جاری کرنا ہوتا تو جاری فرما کر واپس لوٹ جاتے۔[1] 7۔ عید گاہ کی طرف جاتے ہوئے یہ تکبیرات بار بار پڑھتے رہنا چاہئے : (اَللّٰہُ أَکْبَرُ،اَللّٰہُ أَکْبَرُ،اَللّٰہُ أَکْبَرُ،لاَ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ،اَللّٰہُ أَکْبَرُ، وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب عید الفطر کے دن عیدگاہ کو جاتے تھے تو تکبیرات پڑھتے ہوئے جاتے تھے اور نماز عید سے فارغ ہونے کے بعد تکبیرات نہیں پڑھتے تھے ۔ اسی طرح حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جب گھر سے عید گاہ کی طرف جاتے تھے تو تکبیرات پڑھتے ہوئے جاتے تھے۔[2] اور عید گاہ میں پہنچ کر جب تک امام نمازِ عید کیلئے صفیں سیدھی کرنے کا حکم نہ دے اس وقت تک یہ تکبیرات بدستور پڑھتے رہنا چاہئے ۔ 8۔ نماز عید سے پہلے اور اس کے بعد کوئی نفل نماز نہیں ہے ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (أَنَّ النَّبِیَّ صلي اللّٰه عليه وسلم خَرَجَ یَوْمَ الْفِطْرِ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ،لَمْ یُصَلِّ قَبْلَہَا وَلَا بَعْدَہَا) [3] ’’ بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے موقعہ پر نکلے تو آپ نے دو رکعتیں پڑھائیں اور نماز عید سے پہلے بھی اور اس کے بعد بھی کوئی نماز نہیں پڑھی ۔ ‘‘ 9۔ نماز عید سے پہلے اذان اور اس کی اقامت مشروع نہیں ہے ۔ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئی مرتبہ عیدین کی نماز بغیر اذان واقامت کے پڑھی ۔ [4] آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اِس مبارک ماہ کے روزے مکمل کرنے کی توفیق دے اور انھیں شرف قبولیت سے نوازے ۔ آمین [1] صحیح البخاری:956،صحیح مسلم:889 [2] السلسلۃ الصحیحۃ:171 [3] صحیح البخاری:989،صحیح مسلم :884 [4] صحیح مسلم:887