کتاب: زاد الخطیب (جلد1) - صفحہ 423
’’ اے اللہ ! مجھے سب سے اچھے اعمال اور سب سے بہتر اخلاق کی توفیق دے کیونکہ تیرے سوا ان کی توفیق دینے والا کوئی نہیں اور مجھے برے اعمال اور بری صفات سے بچا کیونکہ تیرے سوا ان سے بچانے والا کوئی نہیں ۔ ‘‘ 5۔ تائب ‘ توبہ کا دروازہ بند ہونے سے پہلے توبہ کرے ہم اِس خطبہ کے آغاز میں عرض کر چکے ہیں کہ کسی مسلمان سے جیسے ہی گناہ سرزد ہو تووہ فورا اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے ، اس سے معافی طلب کرے اور توبہ کومؤخر نہ کرے کیونکہ کسی انسان کے پاس کوئی گارنٹی نہیں کہ وہ کب تک زندہ رہے گا اور چونکہ اس کی موت کسی بھی لمحے میں واقع ہو سکتی ہے اس لئے اسے موت سے اور اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہوئے فورا توبہ کرنی چاہئے، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اُس وقت توبہ کرے جب اس کا دروازہ ہی اس کیلئے بند ہو جائے اور تب اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو رد کردے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے : (( إِنَّ اللّٰہَ لَیَقْبَلُ تَوْبَۃَ الْعَبْدِ مَا لَمْ یُغَرْغِرْ) [1] ’’ بے شک اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ اس کی روح حلق میں اٹکنے سے پہلے تک قبول کرتا ہے ۔ ‘‘ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب بندے کو موت کا فرشتہ نظر آرہا ہو اور اس کی آخری سانس حلق میں اٹکی ہوئی ہو تو اس وقت اس کی توبہ کا کوئی فائدہ نہیں ۔ بالکل یہی مفہوم اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یوں بیان فرمایا ہے : {إِنَّمَا التَّوْبَۃُ عَلَی اللّٰہِ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُونَ السُّوْئَ بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ یَتُوبُونَ مِن قَرِیْبٍ فَأُولٰـئِکَ یَتُوبُ اللّٰہُ عَلَیْْہِمْ وَکَانَ اللّٰہُ عَلِیْمًا حَکِیْمًا.وَلَیْْسَتِ التَّوْبَۃُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُونَ السَّیِّئَاتِ حَتَّی إِذَا حَضَرَ أَحَدَہُمُ الْمَوْتُ قَالَ إِنِّیْ تُبْتُ الْآنَ وَلاَ الَّذِیْنَ یَمُوتُونَ وَہُمْ کُفَّارٌ أُولٰـئِکَ أَعْتَدْنَا لَہُمْ عَذَابًا أَلِیْمًا}[2] ’’ اللہ کے نزدیک صرف ان لوگوں کی توبہ قبول ہوتی ہے جو نادانی میں گناہ کر بیٹھتے ہیں ، پھر جلد ہی توبہ کرلیتے ہیں، تو اللہ انہی کی توبہ قبول کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑا علم والا ، بڑی حکمتوں والا ہے اور ان لوگوں کی توبہ قبول نہیں ہوتی جو برے کام کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی پر موت کا وقت آتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ اب میں نے توبہ کر لی اور نہ ان لوگوں کی توبہ قبول ہوتی ہے جو حالتِ کفر میں مر جاتے ہیں ، انہی لوگوں کیلئے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے ۔ ‘‘ یہی وجہ ہے کہ جب فرعون نے ڈوبتے ہوئے توبہ کی تو اللہ تعالیٰ نے اس کی توبہ کو رد کرتے ہوئے فرمایا : [1] الترمذی :3537۔ صححہ الألبانی [2] النساء4 18-17