کتاب: زاد الخطیب (جلد1) - صفحہ 336
(( کُلُّ امْرِیئٍ فِیْ ظِلِّ صَدَقَتِہٖ حَتّٰی یُقْضٰی بَیْنَ النَّاسِ [1])) ’’ ہر شخص اپنے صدقے کے سائے تلے ہو گا یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ ہو جائے ۔ ‘‘ اور جو انسان انتہائی خفیہ انداز سے صدقہ کرے وہ عرش الٰہی کے سائے تلے ہو گا جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:(( سَبْعَۃٌ یُظِلُّہُمُ اللّٰہُ فِیْ ظِلِّہٖ یَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّہُ … وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَۃٍ فَأَخْفَاہَا حَتّٰی لَا تَعْلَمَ شِمَالُہُ مَا تُنْفِقُ یَمِیْنُہُ [2])) ’’ سات قسم کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ اپنے ( عرش کے ) سائے تلے جگہ دے گا جس دن اس کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہو گا ۔۔۔۔۔۔ ان میں سے ایک شخص وہ ہے جس نے اس طرح خفیہ طور پر صدقہ کیا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی پتہ نہ چلا کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ۔ ‘‘ اور اگر ہم بھی روزِ قیامت کی گرمی اور اس دن کے پسینے سے بچنا چاہتے ہیں تو ہمیں کثرت سے صدقہ کرنا ہو گا ۔ خاص طور پر خفیہ صدقہ کہ جس کا کسی کو پتہ نہ چلے ، کیونکہ اس کی جزاء عرش الٰہی کا سایہ ہے ۔ فرشتے آبیاری کرتے ہیں جی ہاں ! صدقہ کرنے والے شخص کا مال با برکت ہوتا ہے اور اس کے باغات کی آبیاری فرشتے کرتے ہیں ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’ ایک آدمی ایک صحراء سے گذر رہاتھا کہ اس نے ایک بادل میں سے یہ آواز سنی (اِسْقِ حَدِیْقَۃَ فُلاَنٍ) ’’فلاں آدمی کے باغ کو پانی پلاؤ ۔‘‘ چنانچہ وہ بادل ایک طرف چلا گیا اور ایک کالے پتھروں والی زمین پر پانی برسا دیا ، پھر وہاں موجود نالیوں میں سے ایک نالی نے وہ سارا پانی اپنے اندر لے لیا ، یہ آدمی پانی کے پیچھے پیچھے چل دیا، اس نے اچانک دیکھا کہ ایک شخص اپنے باغ میں کھڑا ہے اور وہ اپنے بیلچے کے ساتھ اِس پانی کا رخ اُس باغ کی طرف موڑ رہا ہے۔ اس نے کہا:اے اللہ کے بندے !آپ کا نام کیا ہے ؟تو اس نے اپنا وہی نام بتایا جسے یہ آدمی بادل میں سے سن چکا تھا ۔ پھر اُس نے پوچھا : اے اللہ کے بندے ! آپ نے میرا نام کیوں وچھا ہے ؟ اس نے کہا : میں نے بادل میں سے ایک آواز سنی تھی جس سے یہ پانی نکل کر یہاں پہنچا ہے ، وہ آواز کہہ رہی تھی : فلاں آدمی کے باغ کو پانی پلاؤ اور اس نے آپ ہی کا نام لیا تھا۔ تو کیا آپ بتائیں گے کہ آپ اس باغ میں کیا کرتے ہیں ؟ [1] صحیح الجامع للألبانی:4510 [2] صحیح البخاری:1423،صحیح مسلم:1031