کتاب: زاد الخطیب (جلد1) - صفحہ 261
دوسری بات یہ ہے کہ بالفرض اگر یہ بات درست بھی ہو کہ اِس رات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کرایا گیا تھا تو اِس سے یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ اِس میں خصوصی طور پر عبادت کا اہتمام کیا جائے یا اس سے اگلے دن کا روزہ رکھا جائے ! اِس سلسلے میں ہمارا موقف بالکل واضح ہے کہ اگر خود ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس رات میں کوئی خاص عبادت کی تھی تو پھر ہمیں بھی کرنی چاہئے ۔ اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کی تو پھر ہمیں بھی نہیں کرنی چاہئے ۔ یا اگر کسی کے پاس اِس بات کا ثبوت ہو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم معراج کے واقعہ کے بعد اِس رات میں خصوصی طور پر عبادت کا اہتمام کرتے تھے تو وہ ثبوت پیش کرے تاکہ ہم بھی اُن صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے خصوصی طور پر اِس رات میں عبادت کریں ، لیکن اگر اِس کا کوئی ثبوت نہیں اور یقینا نہیں ہے تو پھر ہمیں من گھڑت خرافات کو ترک کردینا چاہئے اور خالص دین پر ہی عمل کرنا چاہئے ۔ تیسری بات یہ ہے کہ ستائیسویں رات کی عبادت یا ستائیسویں دن کے روزہ کی فضیلت کے بارے میں جو کچھ بیان کیا جاتاہے وہ سب جھوٹ ہے اور اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۔ مولانا عبد الحی لکھنوی کہتے ہیں:(وَمَا اشْتَہَرَ فِی بِلَادِ الْہِنْدِ وَغَیْرِہٖ أَنَّ صَوْمَ صَبَاحِ تِلْکَ اللَّیْلَۃِ یَعْدِلُ أَلْفَ صَوْمٍ فَلاَ أَصْلَ لَہُ) [1] یعنی یہ جو بلادِ ہند وغیرہ میں مشہور ہے کہ شبِ معراج کی صبح کو روزہ رکھنا ایک ہزار روزوں کے برابر ہے تو یہ بالکل بے بنیاد بات ہے۔ آخر میں ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ ہمیں دین ِ خالص پر عمل کرنے کی توفیق دے اور ہمارا خاتمہ اسی دین پر فرمائے ۔ اور ہمیں بدعات ایجاد کرنے یا ایجاد شدہ بدعات پر عمل کرنے سے بچنے کی توفیق دے۔ آمین دوسرا خطبہ رحب کی بدعات کے حوالے سے مزید یہ بھی سن لیجئے کہ بعض لوگ اِس مہینے میں عمرہ کرنا افضل گردانتے ہیں لیکن ان کا یہ اعتقاد اِس لئے درست نہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس ماہ میں عمرہ کرنے کی کوئی خاص فضیلت ثابت نہیں ۔ اور نہ ہی یہ ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس میں عمرہ کیا ہو ۔ عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ میں اورحضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کے پاس بیٹھے تھے ، میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں عمرہ کیا تھا؟ تو انھوں نے کہا : ہاں۔ [1] الآثار المرفوعۃ،ص77