کتاب: زاد الخطیب (جلد1) - صفحہ 25
مجید سے ثابت ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا إِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلاَۃِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ فَاسْعَوْا إِلٰی ذِکْرِ اللّٰہِ وَذَرُوْا الْبَیْعَ ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّکُمْ إِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ }[1] ’’ اے ایمان والو ! جمعہ کے دن جب نماز کیلئے اذان کہی جائے تو ذکر الٰہی کی طرف جلدی آنے کی کوشش کرو اور خرید وفروخت چھوڑ دو ، اگر تم جانو تو یہی بات تمہارے لئے بہتر ہے ۔ ‘‘ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ادا کرنے کا تاکیدی حکم دیا ہے جیسا کہ حضرت طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (( اَلْجُمُعَۃُ حَقٌّ وَاجِبٌ عَلیٰ کُلِّ مُسْلِمٍ فِیْ جَمَاعَۃٍ إِلاَّ أَرْبَعَۃٌ: عَبْدٌ مَمْلُوْکٌ، أَوِ امْرَأَۃٌ ، أَوْ صَبِیٌّ،أَوْ مَرِیْضٌ)) [2] ’’ نمازِ جمعہ باجماعت ادا کرنا ہر ( مکلف ) مسلمان پرحق اور واجب ہے سوائے چار افراد کے۔ ایک غلام جو کسی کی ملکیت ہو ، دوسری عورت ، تیسرا بچہ اور چوتھا مریض ۔‘‘ نمازِ جمعہ کوبغیر کسی شرعی عذر کے چھوڑنے والے لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت وعید سنائی ہے ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (( لَیَنْتَہِیَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ وَدْعِہِمُ الْجُمُعَاتِ، أَوْ لَیَخْتِمَنَّ اللّٰہُ عَلیٰ قُلُوْبِہِمْ، ثُمَّ لَیَکُوْنَنَّ مِنَ الْغَافِلِیْنَ )) [3] ’’ لوگ نمازِ جمعہ چھوڑنے سے باز آجائیں ، ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہریں لگا دے گا ، پھر وہ غافلوں میں سے ہو جائیں گے ۔‘‘ اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ جمعہ سے پیچھے رہنے والے لوگوں کے متعلق فرمایا : ( لَقَدْ ہَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلاً یُّصَلِّیْ بِالنَّاسِ ،ثُمَّ أُحَرِّقَ عَلیٰ رِجَالٍ یَتَخَلَّفُوْنَ عَنِ الْجُمُعَۃِ بُیُوْتَہُمْ ) [4] ’’ میرا دل چاہتا ہے کہ میں ایک آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے ، پھر میں ان لوگوں کو ان کے گھروں سمیت آگ لگا دوں جو نمازِ جمعہ سے پیچھے رہتے ہیں ۔ ‘‘ [1] الجمعۃ:9 [2] سنن أبو داؤد:1067وصححہ الألبانی [3] صحیح مسلم:865 [4] صحیح مسلم :652