کتاب: زاد الخطیب (جلد1) - صفحہ 236
3۔ رحمدلی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہایت رحمدل ، نرم مزاج اور ترس کھانے والے تھے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :{فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنتَ لَہُمْ وَلَوْ کُنتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لاَنفَضُّوا مِنْ حَوْلِکَ فَاعْفُ عَنْہُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَہُمْ وَشَاوِرْہُمْ فِیْ الأَمْرِ}[1] ’’ آپ محض اللہ کی رحمت سے ان کیلئے نرم مزاج ہیں ۔ اور اگر آپ تند مزاج ، سنگدل ہوتے تو وہ آپ کے پاس سے چھٹ جاتے ۔ لہٰذا آپ انھیں معاف کردیجئے ، ان کیلئے مغفرت طلب کیجئے اور معاملات میں ان سے مشورہ لیجئے ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس اخلاق کے بھی متعدد نمونے کتب حدیث میں موجود ہیں ۔ ٭ حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم چند ہم عمر نوجوان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم نے بیس راتیں آپ کے پاس قیام کیا ۔ پھر آپ کو یہ گمان ہوا کہ جیسے ہم اپنے گھر والوں سے ملنے کا شوق رکھتے ہیں ، چنانچہ آپ نے ہم سے ہمارے گھر والوں کے بارے میں معلومات لیں ۔ ہم نے آپ کو سب کچھ بتا دیا ۔اور چونکہ آپ بڑے نرم مزاج اور رحمدل تھے اس لئے آپ نے فرمایا : (( اِرْجِعُوا إِلٰی أَہْلِیْکُمْ فَعَلِّمُوْہُمْ وَمُرُوْہُمْ،وَصَلُّوْا کَمَا رَأَیْتُمُوْنِی أُصَلِّیْ،وَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاۃُ فَلْیُؤَذِّنْ لَکُمْ أَحَدُکُمْ ثُمَّ لِیَؤُمَّکُمْ أَکْبَرُکُمْ)) [2] ’’ تم اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ جاؤ ، پھر انھیں بھی تعلیم دو اور میرے احکامات ان تک پہنچاؤ ۔اور تم نماز اسی طرح پڑھنا جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ۔ اور جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے کوئی شخص اذان کہے ، پھر تم میں جو بڑا ہو وہ امامت کرائے ۔‘‘ ٭ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نے مسجد کے کونے میں پیشاب کرنا شروع کیا تو لوگ اس کی طرف لپکے تاکہ اسے ماریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (( دَعُوْہُ وَأَہْرِیْقُوْا عَلٰی بَوْلِہٖ ذَنُوْبًا مِنْ مَّائٍ أَوْ سِجْلًا مِنْ مَّائٍ فَإِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُیَسِّرِیْنَ وَلَمْ تُبْعَثُوْا مُعَسِّرِیْنَ)) [3] ’’ اسے چھوڑ دو اور اس کے پیشاب پر ایک ڈول پانی کا بہا دو ۔ بے شک تمھیں آسانی پیدا کرنے والے بنا [1] آل عمران3 :159 [2] صحیح البخاری:6008،صحیح مسلم :674 [3] صحیح البخاری:6128