کتاب: زاد الخطیب (جلد1) - صفحہ 169
اللَّبِنَۃُ ؟ قَالَ : فَأَنَا اللَّبِنَۃُ،وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ)) [1] ’’میری اور مجھ سے پہلے آنے والے انبیاء کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی شخص مکان بنائے ، اس کی تعمیر نہایت خوبصورتی سے کرے اور اسے خوب سجائے لیکن ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑ دے ۔ پھر لوگ اس کا چکر لگائیں اور اس کی خوبصورتی کو دیکھ کر حیران ہوں ۔ ساتھ ہی وہ یہ بھی کہیں کہ یہ اینٹ کیوں نہیں لگائی گئی ! تو میں در اصل وہ آخری اینٹ ہوں اور اسی لحاظ سے خاتم النبیین ہوں ۔ ‘‘ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ قصرِ نبوت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری اینٹ کی حیثیت رکھتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد اس قصر میں کسی اضافے کی گنجائش نہیں رہی ۔ (۲) اُمت محمدیہ سب سے افضل امت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سابقہ تمام امتوں کی نسبت سب سے افضل اور بہترین امت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: {وَکَذَلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّۃً وَسَطاً لِّتَکُونُواْ شُہَدَائَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُونَ الرَّسُولُ عَلَیْْکُمْ شَہِیْدًا} [2] ’’ اور اسی طرح ہم نے تم کو افضل امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو جاؤ اور رسول تم پر گواہ ہو ۔ ‘‘ نیز فرمایا : { کُنتُمْ خَیْْرَ أُمَّۃٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللّٰہِ}[3] ’’ تم بہترین امت ہو جو لوگوں کیلئے پیدا کی گئی ہے ( کیونکہ ) تم نیکی کاحکم دیتے اور برائی سے منع کرتے ہو ، اور اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو ۔ ‘‘ اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’ تمھاری مدت سابقہ امتوں کی مدت کے مقابلے میں اتنی ہے جتنی نمازِ عصر کے بعد غروبِ آفتاب تک ہوتی ہے ۔ اور تمھاری اور یہود ونصاری کی مثال ایسے ہے جیسا کہ ایک آدمی کچھ مزدور لے آئے اور کہے : صبح سے دوپہر تک ایک قیراط پر کون مزدوری کرے گا ؟ تو یہودیوں نے ایک قیراط پر دوپہر تک مزدوری کی ۔ پھر اس نے [1] صحیح البخاری،المناقب باب خاتم النبیین:3535، صحیح مسلم،الفضائل،باب ذکر کونہ صلی اللّٰه علیہ وسلم خاتم النبیین:2286 [2] البقرۃ2 :143 [3] آل عمران3 :110