کتاب: زاد الخطیب (جلد1) - صفحہ 154
’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے کنانہ کو چنا ، پھر کنانہ سے قریش کو چنا ، پھر قریش سے بنو ہاشم کو چنا اور بنو ہاشم سے اس نے مجھے منتخب فرمایا۔ ‘‘ اسی طرح جب بادشاہِ روم ( ہرقل )نے حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ سے ( جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حسب ونسب کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے جواب دیا تھا:(ھُوَ فِیْنَا ذُوْ نَسَبٍ) وہ ہم میں اعلی حسب ونسب والے ہیں ۔ تو ہرقل نے کہا:(کَذٰلِکَ الرُّسُلُ تُبْعَثُ فِیْ نَسَبِ قَوْمِہَا)کہ ایسے ہی پیغمبرانِ عظام علیہم السلام اپنی قوموں میں عالی نسب ہوتے ہیں ۔[1] ان نصوص سے ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں میں سب سے اعلی نسب والے تھے ۔ (۲) انسانیت پر احسانِ عظیم یوں تو انسانیت پر اللہ تعالیٰ کے احسانات بے شمار ہیں، لیکن ان میں سب سے بڑا احسان ‘ جسے اللہ تعالیٰ نے خصوصی طور پر قرآن مجید میں ذکر فرمایا ہے ، وہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت۔ فرمان الٰہی ہے:{لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ إِذْ بَعَثَ فِیْہِمْ رَسُوْلاً مِّنْ أَنْفُسِہِمْ یَتْلُوْ عَلَیْہِمْ آیَاتِہٖ وَیُزَکِّیْہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ وَإِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلاَلٍ مُّبِیْنٍ }[2] ’’ بے شک مومنوں پر اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ اس نے انہی میں سے ایک رسول ان میں بھیجا جو انھیں اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا اور ان کا تزکیہ کرتا ہے ۔ نیز انھیں کتاب وحکمت سکھاتا ہے ۔ یقینا یہ سب اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے ۔ ‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت انسانیت گمراہ تھی اور جہالت کی انتہائی تاریک گھاٹیوں میں بھٹک رہی تھی جیسا کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے کہ یقینا یہ سب اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے ۔ پھراللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ان میں مبعوث فرما کر انھیں تاریکی سے نکالا اور آپ کے ذریعے صراطِ مستقیم کی طرف ان کی راہنمائی کی ۔ اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انسانیت کیلئے باعث ِ رحمت تھے ۔ فرمان الٰہی ہے : {وَمَآ اَرْسَلْنَاکَ اِلاَّ رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْنَ }[3] ’’ اور ہم نے یقینا آپ کو جہان والوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ۔ ‘‘ [1] صحیح البخاری:7 ،صحیح مسلم:1773 [2] آل عمران3 :164 [3] الأنبیاء21 :107