کتاب: زاد الخطیب (جلد1) - صفحہ 138
بارے میں حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی روایت سماعت فرمائیے ۔ ان کا بیان ہے کہ مدینہ منورہ جاتے ہوئے راستے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت زبیر رضی اﷲ عنہ سے ملاقات ہوئی جو مسلمانوں کے ایک تجارتی قافلے کے ساتھ شام سے لوٹ رہے تھے ۔ تو حضرت زبیر رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ کو سفید کپڑے بطور ہدیہ پیش کئے۔ ادھر اہلِ مدینہ کو جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ سے ہجرت کا علم ہوا تو وہ ہر صبح کو الحرّۃ کی طرف نکلتے اور دوپہر کی گرمی تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرتے رہتے ۔ ایک دن وہ لمبے انتظار کے بعد واپس پلٹ کر اپنے گھروں میں پہنچے ہی تھے کہ ایک یہودی اپنی کسی ضرورت کے تحت ایک ٹیلے پر چڑھا ۔ اس نے اچانک سفید کپڑوں میں ملبوس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ کو دیکھا ۔ اس پر اس سے رہا نہ گیا اور بے قابو ہوکر اس نے بلند آواز سے اعلان کرتے ہوئے کہا: اے عربوں کی جماعت ! یہ تمہارا بزرگ آگیا ہے جس کا تم انتظار کررہے تھے ۔ یہ سن کرمسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔ انھوں نے اپنا اسلحہ اٹھایا اور ( الحرۃ )کے قریب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم استقبال کرنے والوں کے ساتھ دائیں طرف مڑ گئے اور بنی عمرو بن عوف میں اترے۔ یہ ربیع الأول کے مہینے میں سوموار کا دن تھا ۔ وہاں پر حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ کھڑے ہوکر لوگوں کا استقبال کرتے رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموشی سے بیٹھے رہے ۔ انصارِ مدینہ میں سے جن لوگوں نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا تھا وہ آتے اور حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ کو سلام کرتے ۔جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو دھوپ لگنے لگی تو حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی چادر سے سایہ کیا ۔اس سے لوگوں کو معلوم ہوگیا کہ یہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم بنو عمرو بن عوف ( قباء ) میں دس سے زیادہ راتوں تک ٹھہرے رہے ۔ اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مسجد (مسجد قباء ) کی بنیاد رکھی جس کے بارے میں قرآن میں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا : {لَمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَی التَّقْوَی مِنْ أَوَّلِ یَوْمٍ أَحَقُّ أَن تَقُومَ فِیْہِ}[1] ’’ جس مسجد کی اساس پہلے دن سے ہی تقویٰ پر رکھی گئی وہ زیادہ حق رکھتی ہے کہ آپ اس میں کھڑے ہوں۔‘‘ اُس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ۔ پھر اپنی سواری پر سوار ہوئے اور لوگوں کے ساتھ چلنے لگے ، حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری اس جگہ پربیٹھ گئی جہاں اب مدینہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد ہے ۔ وہاں اس وقت چند مسلمان نماز پڑھا کرتے تھے۔ یہ جگہ در اصل سہیل رضی اللہ عنہ اور سہل رضی اللہ عنہ کی ملکیت تھی جو کہ یتیم تھے اور حضرت اسعد بن زرارہ رضی اﷲ عنہ کی گود [1] التوبۃ9:108