کتاب: زاد الخطیب (جلد1) - صفحہ 117
بارے میں سید الرسل حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فیصلہ صادر فرمایا ہے !! 5۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا گیا کہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو برا بھلا کہتے ہیں ، حتی کہ ابوبکر وعمر رضی اﷲ عنہما کو بھی معاف نہیں کرتے ! تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : تم اس پر تعجب کرتے ہو ؟ در اصل ان کا عمل منقطع ہوچکا ہے تو اﷲ نے اس بات کو پسند فرمایا ہے کہ ان کا اجر منقطع نہ ہو ۔[1] ان تمام دلائل سے یہ بات بالکل واضح ہوگئی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے متعلق اپنے دلوں کو بغض اور کینہ سے پاک رکھنا اور اپنی زبانوں کو ان پر سبّ وشتم کرنے سے محفوظ رکھنا لازمی امر ہے ۔ ورنہ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ جو شخص صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو برا بھلا کہتا اور ان کی عیب گیری کرتا ہو وہ در اصل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عیب گیری کرتا ہے ، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو انہیں بشارتیں سنائی ہیں اور انہیں امین اور ثقہ قرار دیا ہے ۔بلکہ وہ شخص در اصل اﷲ تعالیٰ پر بھی اعتراض کرتا ہے کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے ہی انہیں اپنے نبی کے ساتھ کے لئے منتخب فرمایا، انہیں اپنی رضا مندی سے نوازا اور ان سے جنت کا وعدہ فرمایا ۔ بلکہ وہ شخص دراصل پورے دین ِ الٰہی میں طعنہ زنی کرتا ہے کیونکہ اس دین کو نقل کرنے والے یہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہی تو ہیں ۔ اس لئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عیب گیری کرنا انتہائی خطرناک امر ہے جس سے فوری طور پر توبہ کرنا ضروری ہے ۔ اﷲ تعالیٰ ہم سب کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے سچی محبت کرنے کی توفیق دے ۔آمین [1] جامع الأصول:408/9