کتاب: وسیلہ کی شرعی حیثیت - صفحہ 98
فلاں کے طفیل میری مشکل حل فرما دے، میرے گناہ معاف کر دے اور میری حاجت پوری فرما دے وغیرہ۔اس قسم کو لغوی طور پر توسل کہا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ سوال باقی ہے کہ یہ شرعی طور پر جائز ہے یا نہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ توسل کی یہ قسم دو وجہ سے ناجائز ہے ۔ ایک تو یہ ہے کہ دعا کے سلسلہ میں اس طرح کرنا گمراہ کن بدعت ہے، کیونکہ کتاب وسنت میں وسیلہ کی اس صورت کا کوئی وجود نہیں ،نہ صحابہ و تابعین اور ائمہ اُمت میں سے کسی امام نے ایسا کیا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اس طرح سے باب شرک کے دونوں کواڑ کھل جاتے ہیں ،لہٰذا توحید کے تحفظ کے لیے اس دروازے کو بند کرنا ضروری ہے۔‘‘ (جُھود عُلماء الحنفیّۃ، ص 1484) عیسائیت اور ممنوع توسل : اگر غور کیا جائے، تو معلوم ہو گا کہ مبتدعین کے ہاں جو ممنوع اور ناجائز توسل پایا جاتا ہے، وہ در اصل عیسائیت سے مستعار ہے، جس طرح بہت سے عقائد واعمال میں جاہل مسلمان یہود و نصاریٰ کی تقلید کرتے ہیں ،اسی طرح وسیلہ بھی لے لیا گیا ہے۔ اسلام میں قبر پرستی کا کوئی تصور نہیں ،کسی زندہ بزرگ کی ذات یا فوت شدگان سے توسل اور استعانت ناجائز وغیر مشروع ہے،بلکہ یہ اہل کتاب کی پیروی ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ( 728ھ)فرماتے ہیں : ’’نصاری اپنے بزرگوں کی حد درجہ تعظیم کرتے ہیں ،ہو سکتا ہے انہوں نے سوچا ہو کہ مسلمان بھی تعظیم میں ہمارے ہم نوا ہو جائیں ،اسی غرض سے