کتاب: وسیلہ کی شرعی حیثیت - صفحہ 96
اَلْحَقُّ عِنْدِي أَنَّ التَّوَسُّلَ بِالنَّبِیِّ فِي حَیَاتِہٖ بِمَعْنَی التَّوَسُّلِ بِدُعَائِہٖ وَشَفَاعَتِہٖ جَائِزٌ، وَکَذَا التَّوَسُّلُ بِغَیْرِہٖ مِنْ أَہْلِ الْخَیْرِ وَالصَّلَاحِ فِي حَیَاتِہِمْ بِمَعْنَی التَّوَسُّلِ بِدُعَائِہِمْ وَشَفَاعَتِہِمْ أَیْضًا جَائِزٌ، وَأَمَّا التَّوَسُّلُ بِہٖ بَعْدَ مَمَاتِہٖ، وَکَذَا التَّوَسُّلُ بِغَیْرِہٖ مِنْ أَہْلِ الْخَیْرِ وَالصَّلَاحِ بَعْدَ مَمَاتِہِمْ فَلَا یَجُوزُ، وَاخْتَارَہُ الْإِمَامُ ابْنُ تَیْمِیَّۃَ فِي رِسَالَتِہِ (التَّوَسُّلُ وَالْوَسِیلَۃُ)، وَقَدْ أَشْبَعَ الْکَلَامَ فِي تَحْقِیقِہٖ وَأَجَادَ فِیہِ، فَعَلَیْکَ أَنْ تُرَاجِعَہَا ۔ ’’ میرے نزدیک حق یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں آپ کے وسیلہ سے مراد آپ کی دعا اور سفارش کاوسیلہ ہے، جو کہ جائز ہے۔ نیک لوگوں سے ان کی زندگی میں ان کی دعا اور سفارش کاوسیلہ بھی جائز ہے۔ رہی بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کی ذات کے وسیلہ کی اور اسی طرح نیک لوگوں کی وفات کے بعد ان کی ذات کے وسیلہ کی تو یہ ناجائز ہے۔ اسی بات کو امام ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ نے اپنی کتاب التوسل والوسیلۃ میں راجح قرار دیاہے۔ انہوں نے اس بارے میں بہت عمدہ اور سیر حاصل بحث کی ہے۔ آپ کو اس کا مطالعہ کرنا چاہیے۔‘‘ (تُحفۃ الأحْوَذي : 4/283) شیخ شمس الدین افغانی رحمہ اللہ( 1420ھ)فرماتے ہیں : ’’خلاصہ کلام یہ کہ قبرپرستوں کا توسل دو طرح کا ہے:پہلی صورت وہ