کتاب: وسیلہ کی شرعی حیثیت - صفحہ 88
قبروں کو سجدہ گاہ بنا چکے ہیں ، جو ان سے کم درجہ ہیں ۔ اگر قبروں کے پاس دعا مانگنا اور وہاں نماز پڑھنا اور فیض روحانی حاصل کرنا فضیلت والا کام یا سنت بلکہ مباح بھی ہوتا، تو مہاجرین وانصار اس قبرپر جھنڈا گاڑ دیتے،وہاں اپنے لیے دعا کرتے اور بعدوالوں کے لیے ایک طریقہ جاری کر دیتے، لیکن وہ بعد والوں کی نسبت اللہ اور اس کے رسول کے دین کو زیادہ جاننے والے تھے، یہی حال تابعین عظام کا تھا کہ وہ بھی انہی کے راستے پر چلتے رہے،حالانکہ ان کے پاس مختلف شہروں میں صحابہ کرام کی بے شما ر قبریں تھیں ، لیکن انہوں نے صحابی کی قبر سے فریاد نہیں کی،نہ اسے پکارا،نہ اس کے ذریعے دعا کی،نہ اس کے پاس جا کر دعاکی،نہ اس کے واسطے سے شفا طلب کی، نہ اس کے واسطے سے بارش طلب کی، نہ اس کے ذریعے سے مدد طلب کی،یہ توطے ہے کہ ان کے پاس ایسی باتوں کو نقل کرنے کی استطاعت اور وافر اسباب موجود تھے، بلکہ انہوں نے اس سے چھوٹی باتیں بھی نقل کی ہیں ۔ اس طرح یہ بحث دو باتوں سے خالی نہیں ہے کہ یا تو قبر کے پاس دعا کرنا اور اس کے وسیلے سے مانگنا دوسری جگہوں سے افضل ہے یا نہیں ۔اگر افضل ہے، تو اس کا علم اور عمل صحابہ کرام ، تابعین اورتبع تابعین سے کیسے مخفی رہا؟ کیا پھر تین افضل ادوار اس فضل عظیم سے لا علم رہے اور برے جانشینوں نے اسے ڈھونڈ لیا؟ کیونکہ ایسا تو نہیں ہو سکتا کہ انہیں پتہ بھی چل جائے، مگر وہ اس سے صرف