کتاب: وسیلہ کی شرعی حیثیت - صفحہ 83
کُنْتُمْ تَظُنُّونَ الرَّجُلَ؟ قَالَ : رَجُلٌ یُّقَالُ لَہٗ : دَانْیَالُ، فَقُلْتُ : مُذْ کَمْ وَجَدْتُمُوہُ مَاتَ؟ قَالَ : مُذْ ثَلَاثِمِائَۃِ سَنَۃٍ، فَقُلْتُ : مَا کَانَ تَغَیَّرَ شَیْئًا؟ قَالَ : لَا، إِلَّا شُعَیْرَاتٌ مِّنْ قَفَاہُ، إِنَّ لُحُومَ الْـأَنْبِیَائِ لَا تُبْلِیہَا الْـأَرْضُ، وَلَا تَاْکُلُہَا السِّبَاعُ ۔ ’’ہم نے تُستَر شہر فتح کیا، تو ہرمزان کے بیت المال میں ایک چارپائی دیکھی، جس پر ایک میت تھی، اس کے سر کے پاس ایک کتاب تھی، ہم نے وہ کتاب اُٹھالی اور اسے سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں لے گئے۔ انہوں نے کعب الاحبار کو بلایا، جنہوں نے اس کتاب کا عربی میں ترجمہ کر دیا، میں پہلا عربی تھا، جس نے اس کتاب کو پڑھا، میں اس کتاب کو یوں پڑھ رہا تھا گویا کہ قرآن کو پڑھ رہا ہوں ۔ ابو العالیہ رحمہ اللہ کے شاگرد کہتے ہیں : میں نے ابو العالیہ رحمہ اللہ سے پوچھا : اس کتاب میں کیا لکھاتھا؟ انہوں نے فرمایا:اس میں اُمت محمدیہ کی سیرت، معاملات، دین، تمہارے لہجے اور بعد کے حالات پر روشنی ڈالی گئی تھی۔ عرض کیا : آپ نے اس فوت شدہ شخص کا کیا کیا؟ انہوں نے فرمایا:ہم نے دن کے وقت مختلف جگہوں پر تیرہ (۱۳) قبریں کھودیں ، پھر رات کے وقت ان میں سے ایک میں اُسے دفن کر دیا اور سب قبریں زمین کے برابر کر دیں ۔ اس طرح کرنے کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو صحیح قبر کا علم نہ ہو اور قبر کشائی نہ کر سکیں ، میں نے عرض کیا:وہ لوگ اس فوت شدہ