کتاب: وسیلہ کی شرعی حیثیت - صفحہ 68
یہ بے سند ہے، لہٰذا قابل اعتبار نہیں ۔ فائدہ نمبر 3 سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ؛ اسْتَسْقٰی عُمَرُ ابْنُ الْخَطَّابِ عَامَ الرَّمَادَۃِ بِالْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ : اللّٰہُمَّ! ہٰذَا عَمُّ نَبِیِّکَ الْعَبَّاسُ، نَتَوَجَّہُ إِلَیْکَ بِہٖ، فَاسْقِنَا، فَمَا بَرِحُوا حَتّٰی سَقَاہُمُ اللّٰہُ، قَالَ : فَخَطَبَ عُمَرُ النَّاسَ، فَقَالَ : أَیُّہَا النَّاسُ! إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَرٰی لِلْعَبَّاسِ مَا یَرَی الْوَلَدُ لِوَالِدِہٖ، یُعَظِّمُہ، وَیُفَخِّمُہ، وَیَبَرُّ قَسَمَہ، فَاقْتَدُوا أَیُّہَا النَّاسُ بِرَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِي عَمِّہِ الْعَبَّاسِ، وَاتَّخِذُوہُ وَسِیلَۃً إِلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ فِیمَا نَزَلَ بِکُمْ ۔ ’’سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عام الرمادہ (قحط و ہلاکت والے سال) میں سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کو وسیلہ بنا کر بارش طلب کی۔ انہوں نے یوں فریاد کی:یااللہ!یہ تیرے مکرّم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معززچچا ہیں ۔ ہم ان کے وسیلہ سے دعا کرتے ہیں ۔ تُو ہم پر بارش نازل فرما۔ وہ دعا کر ہی رہے تھے کہ بارش برسنے لگی۔ پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا۔ فرمایا : لوگو! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے بارے میں وہی