کتاب: وسیلہ کی شرعی حیثیت - صفحہ 66
بعض حضرات اس حدیث سے وسیلہ کی ایک ناجائز قسم ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، حالانکہ یہ حدیث ہماری دلیل ہے، کیونکہ زندہ لوگوں سے دعا کرانا مشروع ہے۔ اگر فوت شدگان کی ذات کا وسیلہ جائز ہوتا، تو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات کو چھوڑ کر صحابہ کبھی ایک اُمتی کی ذات کو اللہ تعالیٰ کے دربار میں پیش کرنے کی جسارت نہ کرتے۔ معلوم ہوا کہ اس حدیث سے صرف زندہ نیک لوگوں کی دعا کے وسیلہ کا اثبات ہوتا ہے۔ محدثین کرام اور فقہائے امت نے اس حدیث سے ذات کا نہیں ، بلکہ دُعا کا وسیلہ مراد لیا ہے۔جب اسلافِ امت اس سے فوت شدگان کا وسیلہ مراد نہیں لیتے، تو بعد والوں کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ اس حدیث کا ایک نیا معنی متعارف کروائیں ؟ تصریحات ِ محدثین سے عیاں ہو اکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے توسل سے کا معنی یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دُعاکروائی جاتی تھی، پھر اللہ کو اس دُعا کا حوالہ دیا جاتا کہ اے اللہ! تیرا نبی ہمارے حق میں تجھ سے دُعا فرما رہا ہے ، لہٰذا اپنے نبی کی دُعا ہمارے بارے میں قبول فرما کر ہماری حاجت روائی فرما! کوئی ثقہ محدث یا معتبر عالم اس حدیث سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی ذات کا وسیلہ ثابت نہیں کرتا۔ فائدہ نمبر 1 ایک روایت میں ہے کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے بارش کے لیے دُعا کا کہا، تو انہوں نے دعا کی :