کتاب: وسیلہ کی شرعی حیثیت - صفحہ 65
یوں کرتے :اللہ! ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے وسیلہ سے بارش طلب کرتے تھے، اب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس رضی اللہ عنہ کی دعا کا وسیلہ لائے ہیں ،تو ہمیں بارش عطا فرما۔ بارش ہو جاتی تھی۔‘‘ (صحیح البخاري : 1010) شیخ الاسلام ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ) 728ھ)فرماتے ہیں ؛ ذٰلِکَ أَنَّ التَّوسُّلَ بِہٖ فِي حَیَاتِہٖ، ھُوَ أَ نَّھُمْ کَانُوا یَتَوَسَّلُونَ بِہٖ، أَیْ یَسْأَلُونَ أَنْ یَّدْعُوَ اللّٰہَ، فَیَدْعُو لَھُمْ، وَیَدْعُونَ فَیَتَوَسَّلُونَ بِشَفَاعَتِہٖ وَدُعَائِہٖ ۔ ’’وسیلہ کی یہ صورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں اس طرح تھی کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دعا کی درخواست کرتے اور پھر خود بھی دعا کرتے ۔ یوں اس طریقہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش اور وسیلہ حاصل کرتے تھے ۔‘‘ (مختصر الفتاوی المِصریۃ، ص 194) شارحِ بخاری ،حافظ ابن حجر رحمہ اللہ) 852ھ)لکھتے ہیں : یُسْتَفَادُ مِنْ قِصَّۃِ الْعَبَّاسِ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْہُ مِنِ اسْتِحْبَابِ الِاسْتِشْفَاعِ بِأَھْلِ الْخَیْرِ وَأَھْلِ بَیْتِ النُّبُوَّۃِ ۔ ’’سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے قصہ سے ثابت ہوتاہے کہ اہل خیر ،اہل صلاح وتقویٰ اور اہل بیت نبی سے سفارش کروانا مستحب ہے۔‘‘ (فتح الباري : 2/497)