کتاب: وسیلہ کی شرعی حیثیت - صفحہ 52
میرے لیے اللہ رب العزت سے مغفرت طلب کیجیے، اسی اثنا میں قبر مبارک سے آواز آئی کہ جا معاف کردیا گیا ہے۔‘‘ (کنز العُمال للہندي : 4322، الصّارم المُنکي لابن عبد الہادي، ص 430؛ تفسیر القُرطبي : 439/6؛ جامع الأحادیث للسّیوطي : 34153) تبصرہ: جھوٹی اور من گھڑت حکایت ہے۔ علامہ ابن عبد الہادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : إِنَّ ہٰذَا خَبَرٌ مُّنْکَرٌ مَّوْضُوعٌ، وَأَثَرٌ مُّخْتَلَقٌ مَّصْنُوعٌ، لَا یَصِحُّ الِاعْتِمَادُ عَلَیْہِ، وَلَا یَحْسُنُ الْمَصِیرُ إِلَیْہِ، وَإِسْنَادُہ ظُلُمَاتٌ بَعْضُہَا فَوْقَ بَعْضٍ، وَالْہَیْثَمُ جَدُّ أَحْمَدَ بْنِ الْہَیْثَمِ، أَظُنُّہُ ابْنَ عَدِیٍّ الطَّائِیِّ، فَإِنْ یَّکُنْ ہُوَ، فَہُوَ مَتْرُوکٌ کَذَّابٌ، وَإِلَّا فَہُوَ مَجْہُولٌ ۔ ’’منکر ، موضوع، من گھڑت اور خودساختہ روایت ہے، عقیدے میں اس پر اعتماد درست نہیں ، اس کی سند اندھیر ی ہے۔ ہیثم جو کہ احمد بن ہیثم کادادا ہے، میرے خیال میں وہ عدی طائی کا بیٹا ہے، اگر یہ واقعی وہی ہے تو متروک و کذاب ہے،ورنہ مجہول ہے۔‘‘ (الصّارم المُنکي في الرّد علی السُّبکي، ص 430) 1.ہیثم بن عدی ’’کذاب‘‘ اور ’’متروک‘‘ ہے۔ امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں :