کتاب: وسیلہ کی شرعی حیثیت - صفحہ 49
محدث فضلک کا قول ذکر کرنے کے بعد حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : آفَتُہٗ ہٰذَا الْفِعْلُ، وَإِلاَّ فَمَا أَعْتَقِدُ فِیہِ أَنَّہُ یَضَعُ مَتْنًا، وَہٰذَا مَعْنٰی قَوْلِہِم : فُلأَنٌ سَرَقَ الْحَدِیْثَ ۔ ’’محمد بن حمید میں یہی بیماری تھی، ورنہ میرا نہیں خیال کہ اس نے کوئی متن بھی گھڑا ہو، اس کی وہی حالت ہے، جو محدثین کے نزدیک ’’سارق الحدیث‘‘ راوی کی ہوتی ہے۔‘‘ (سیر أعلام النّبلاء : 11/504) امام ابو زرعہ اور امام مسلم بن وارہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں : صَحَّ عِنْدَنَا أَنَّہٗ یَکْذِبُ ۔ ’’ہمارے نزدیک درست یہی ہے کہ محمد بن حمید (حدیث میں ) جھوٹا تھا۔‘‘ (کتاب المَجروحین لابن حبان : 1009، وسندہٗ صحیحٌ) امام صالح جزرہ رحمہ اللہ نے بھی ’’کذاب‘‘ قرار دیا ہے۔ (تاریخ بغداد : 262/2، وسندہٗ حسنٌ) 2ابن حمید نے مالک رحمہ اللہ کا دور نہیں پایا، لہٰذا سند منقطع، بلکہ معضل ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ(۷۲۸ھ)فرماتے ہیں : کَذٰلِکَ مَنْ نَقَلَ عَنْ مَالِکٍ أَنَّہُ جَوَّزَ سُوَالَ الرَّسُولِ أَوْ غَیْرِہٖ بَعْدَ مَوْتِہِمْ أَوْ نَقَلَ ذٰلِکَ عَنْ إمَامٍ مِنْ أَئِمَّۃِ الْمُسْلِمِینَ غَیْرِ مَالِکٍ کَالشَّافِعِیِّ وَأَحْمَدَ وَغَیْرِہِمَا فَقَدْ