کتاب: وسیلہ کی شرعی حیثیت - صفحہ 47
لَہَا أَبُو جَعْفَرٍ، وَقَالَ : یَا أَبَا عَبْدِ اللّٰہِ! أَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَۃَ وَأَدْعُو، أَمْ أَسْتَقْبِلُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ : وَلِمَ تَصْرفُ وَجْہَکَ عَنْہُ وَہُوَ وَسِیلَتُکَ وَوَسِیلَۃُ أَبِیکَ آدَمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ إِلَی اللّٰہِ تَعَالٰی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ؟ بَلِ اسْتَقْبِلْہُ واسْتَشْفِعْ بِہٖ، فَیُشَفِّعُہُ اللّٰہُ، قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی : ﴿وَلَوْ أَنَّہُمْ إِذْ ظَّلَمُوا أَنْفُسَہُمْ﴾ الْـآیَۃَ ۔ ’’محمد بن حمید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مسجد نبوی میں امیرالمومنین ابوجعفر رحمہ اللہ کا امام مالک رحمہ اللہ سے مناظرہ ہوا، امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: امیر المومنین! مسجد میں آواز بلند نہ کیجیے، اللہ تعالیٰ نے صحابہ کو ادب سکھاتے ہوئے فرمایا ہے: ﴿لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ…﴾ ’’اپنی آوازیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے بلند نہ کریں ۔‘‘نیزفرمایا:﴿إِنَّ الَّذِینَ یَغُضُّونَ أَصْوَاتَہُمْ عِنْدَ رَسُولِ اللّٰہِ…﴾’’جو لوگ اللہ اور رسول کے پاس آوازیں پست رکھتے ہیں ۔‘‘ کچھ لوگوں کی مذمت میں فرمایا : ﴿إِنَّ الَّذِینَ یُنَادُونَکَ…﴾’’جولوگ آپ کو حجروں کے پیچھے سے پکارتے ہیں ، ان میں سے اکثر ناسمجھ ہیں ۔‘‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و تکریم وفات کے بعد بھی اسی طرح ہے، جس طرح زندگی میں تھی، یہ سن کر ابو جعفر لاجواب ہوگئے اور کہنے لگے:ابو عبداللہ!میں قبلہ رخ ہو کر