کتاب: وسیلہ کی شرعی حیثیت - صفحہ 45
اللہ سے اس کے وسیلے سے مانگتے تھے۔ انہوں نے تو صرف اس قبر مبارک سے روشن دان کھولا کہ اللہ کی رحمت نازل ہو۔ وہاں کوئی دعا تو نہیں مانگی تھی انہوں نے۔ اس کا وسیلہ سے کیا تعلق؟‘‘ (الردّ علی البِکري، ص 74) حاصل کلام یہ کہ یہ روایت قائلین وسیلہ کے حق میں مفید نہیں ۔ ایک الزامی جواب : سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : مَنْ حَدَّثَکَ أَنَّہٗ یَعْلَمُ الغَیْبَ، فَقَدْ کَذَبَ، وَہُوَ یَقُولُ : لَا یَعْلَمُ الْغَیْبَ إِلَّا اللّٰہُ ۔ ’’جو کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غیب جانتے ہیں ، وہ جھوٹا ہے، اللہ تعالیٰ تو فرماتے ہیں کہ ’’غیب کی باتیں اس کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔‘‘ (صحیح البخاري : 7380، صحیح مسلم : 177) ایک صاحب لکھتے ہیں : ’’آپ رضی اللہ عنہا کا یہ قول اپنی رائے سے ہے، اس پر کوئی حدیثِ مرفوع پیش نہیں فرماتیں ، بلکہ آیات سے استدلال فرماتی ہیں ۔‘‘(جاء الحق:1 /124) عرض ہے کہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا علم غیب کے متعلق قول قبول نہیں ، تو ان کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کے متعلق یہ قول حجت کیوں ؟ وہ اس پر کوئی آیت و حدیث پیش نہیں فرما رہیں ، پھر اس پر یہ سہاگہ کہ یہ قول ثابت بھی نہیں ہے؟