کتاب: وسیلہ کی شرعی حیثیت - صفحہ 34
کی عمومیت کا اعتبار ہو گا۔ اس آیت میں امت پر دلیل بننے والے جتنے بھی الفاظ ہیں ، وہ سب ضمیریں ہیں اور خود باقرار ِ سبکی بیان ہو چکا ہے کہ ضمیروں میں عموم نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس آیت سے استدلال کرنے والوں ، مثلاً تقی سبکی،قسطلانی اور ابن حجر مکی، میں سے کسی نے بھی لفظ کی عمومیت کو دلیل نہیں بنایا، حتی کہ صاحب ِ رسالہ (ابنِ دحلان)نے بھی اس کا ذکر تک نہیں کیا۔البتہ اس نے سبکی،قسطلانی اور ابن حجر مکی کی نقالی میں یہ کہا ہے کہ اس آیت کا حکم اپنی علت کے عام ہونے کی وجہ سے عام ہے، لیکن اس صورت میں اس کی دلیل قرآن ِکریم نہیں ،بلکہ ذاتی قیاس ہے۔ صاحب رسالہ نے سمجھ رکھا ہے کہ اس کی دلیل قرآنِ کریم ہے، حالانکہ قیاس کی حجیت کے قائلین کہتے ہیں کہ قیاس وہی معتبر ہے، جو ایک تو نصوصِ شرعیہ کے خلاف نہ ہو، دوسرے اس میں وہ تمام معتبر شرائط موجود ہوں ،جو کتب ِعلم اصول میں مذکور ہیں ۔ یہ قیاس ان دونوں باتوں پر پورا نہیں اترتا۔ اس کی واضح دلیل یہ ہے کہ ابنِ دحلان مُقلِّد ہے اور مقلد اجتہاد کرہی نہیں سکتا۔ پھر مقلدین کے نزدیک ائمہ اربعہ(امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی، امام احمدبن حنبل رحمہم اللہ ) کے بعد اجتہاد کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ مقلد کے لیے شرعی دلائل سے استدلال جائز ہی نہیں ۔ مقلد کا دلیل سے کیا واسطہ؟ اس کا کام تو بس کسی اُمتی کے قول کو بلادلیل تسلیم کرنا ہے۔ صاحب ِرسالہ کا منصب اس کو شرعی دلائل سے استدلال کی اجازت نہیں دیتا۔ (یہ بات تو اس وقت