کتاب: وسیلہ کی شرعی حیثیت - صفحہ 335
لہٰذا یہ سند چھ وجوہات کی بنا پر باطل ہے۔ روایت نمبر 2 سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے : أَتَانِي جِبْرِیلُ فَقَالَ : یَا مُحَمَّدُ! لَوْلَاکَ لَمَا خُلِقَتِ الْجَنَّۃُ، وَلَوْلَاکَ مَا خُلِقَتِ النَّارُ ۔ ’’میرے پاس جبریل آئے اور کہنے لگے : محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )! اگر آپ نہ ہوتے، تو جنت اور دوزخ کو پیدا نہ کیا جاتا۔‘‘ (الغَرائب المُلتَقَطَۃ لابن حجر : 1/479) تبصرہ : جھوٹی روایت ہے۔ 1.فضیل بن جعفر بن سلیمان کی توثیق اور حالات معلوم نہیں ہوئے۔ 2.عبد الصمد بن علی بن عبداللہ کی بھی توثیق نہیں ملی۔ امام عقیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : حَدِیثُہٗ غَیْرُ مَحْفُوظٍ، وَلَا یُعْرَفُ إِلَّا بِہٖ ۔ ’’اس کی حدیث غیر محفوظ ہے اور وہ اسی روایت کے ساتھ معروف ہے۔‘‘ (الضّعفاء الکبیر : 3/84) روایت نمبر3 سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں :