کتاب: وسیلہ کی شرعی حیثیت - صفحہ 320
اَلْـأَکْثَرُ عَلٰی تَضْعِیفِہٖ ۔’’جمہور محدثین ضعیف کہتے ہیں ۔‘‘ (مَجمع الزّوائد : 2/21) حافظ ابنِ ملقن رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ضَعَّفَہُ الْکُلُّ ۔’’سب نے ضعیف قرار دیا ہے۔‘‘(البدر المنیر : 5/458) امام احمد بن حنبل ، امام علی بن مدینی، امام بخاری ، امام یحییٰ بن معین، امام نسائی، امام ابو حاتم رازی ، امام ابو زرعہ رازی، امام دارقطنی، امام ابنِ سعد ، امام ابنِ خزیمہ ، امام ابن حبان ، امام ساجی ، امام طحاوی حنفی ، امام جوزجانی رحمہم اللہ وغیرہم نے ضعیف ومجروح قرار دیا ہے ۔ امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں : رَوٰی عَنْ أَبِیہِ أَحَادِیثَ مَوْضُوعَۃً ۔ ’’اپنے باپ سے موضوع احادیث بیان کی ہیں ۔‘‘ (المَدخل : 154) یہ حدیث بھی عبد الرحمن بن زید بن اسلم نے اپنے باپ زید بن اسلم سے روایت کی ہے، لہٰذا موضوع ہے ۔ 2.عبد اللہ بن مسلم فہری کے متعلق حافظ ذہبی رحمہ اللہ کہتے ہیں : لَا أَدْرِي مَنْ ذَا؟’’میں نہیں جانتا کہ یہ کون ہے؟‘‘ (تلخیص المستدرک : 2/615)