کتاب: وسیلہ کی شرعی حیثیت - صفحہ 301
رہے۔ حتی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس جبریل علیہ السلام کو بھیجا اور فرمایا: آدم! کیا میں نے تجھے اپنے ہاتھ سے پیدا نہیں کیا؟ کیا میں نے تجھ میں اپنی روح نہیں پھونکی؟ کیا میں نے فرشتوں سے تجھے سجدہ نہیں کرایا؟ کیا میں نے اپنی بندی حواء کے ساتھ تیری شادی نہیں کی؟ آدم علیہ السلام نے عرض کیا : بالکل ایسا ہی ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:پھر یہ رونا دھونا کیسا ہے؟ آدم علیہ السلام نے عرض کی:میں کیوں نہ رؤوں کہ مجھے رحمن کے پڑوس سے نکال دیا گیا۔ جبریل علیہ السلام نے فرمایا:یہ کلمات پڑھو، تو اللہ تعالیٰ تمہاری توبہ قبول کرکے تمہاری غلطی معاف فرما دے گا : اللّٰہُمَّ! إِنِّي أَسْأَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَّآلِ مُحَمَّدٍ، سُبْحَانَکَ، لَا إِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ، عَمِلْتُ سُوئً وَّظَلَمْتُ نَفْسِي، فَتُبْ عَلَيَّ، إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ، اللّٰہُمَّ! إِنِّي أَسْأَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَّآلِ مُحَمَّدٍ، عَمِلْتُ سُوئً وَّظَلَمْتُ نَفْسِي، فَتُبْ عَلَيَّ، إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ ’’یااللہ!میں تجھ سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی آل کے وسیلے سے سوال کرتا ہوں ۔ تو پاک ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں ۔میں نے غلطی کی ہے اور اپنی جان پر ظلم کمایا ہے۔ تُو میری توبہ قبول کر لے۔ یقینا تو ہی توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔‘‘یہی وہ کلمات ہیں ، جو اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو سکھائے تھے۔‘‘ (فوائد أبي بکر الأبھري : 17، الغرائب الملتقطۃ لابن حجر : 5/1049)