کتاب: وسیلہ کی شرعی حیثیت - صفحہ 296
2.شریح بن عبید نے کعب احبار کا زمانہ نہیں پایا، حافظ مزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : لَمْ یُدْرِکْہُ ۔’’شریح نے کعب کا زمانہ نہیں پایا۔‘‘ (تَھذیب الکمال : 8/325-324) 3.محمد بن زفر اصبہانی کے حالات ِزندگی نہیں مل سکے۔ 4.زکریا بن یحییٰ مدائنی کے بارے میں حافظ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : لَمْ أَعْرِفْہُ ۔’’میں اسے پہچان نہیں پایا۔‘‘(مَجمع الزّوائد :10 / 126-125) 5.صاحب کتاب اسحاق ختلی کے متعلق دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : لَیْسَ بِالْقَوِيِّ ۔’’ قوی نہیں ۔‘‘(سؤالات الحاکم : 58) امام حاکم رحمہ اللہ نے ’’ضعیف‘‘ قرار دیا ہے۔ (سؤالات الحاکم : 58) حافظ ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں : فِي کِتَابِہٖ (الدِّیبَاجِ) أَشْیَائُ مُنْکَرَۃٌ ۔ ’’اس کی کتاب ’’دیباج‘‘ میں بہت سی منکر روایات ہیں ۔‘‘ (سِیَر أعلام النّبلاء : 13/343) دلیل نمبر 7 سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے سیدناموسیٰ علیہ السلام سے فرمایا : یَا مُوسٰی! إِنَّ مَنْ لَّقِیَنِي، وَہُوَ جَاحِدٌ بِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَدْخَلْتُہُ النَّارَ، فَقَالَ : مَنْ مُّحَمَّدٌ؟ قَالَ : یَا مُوسٰی! وَعِزَّتِي وَجَلَالِي، مَا خَلَقْتُ خَلْقًا أَکْرَمَ عَلَيَّ