کتاب: وسیلہ کی شرعی حیثیت - صفحہ 279
دلیل نمبر 1: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لَمَّا أَذْنَبَ آدَمُ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الذَّنْبَ الَّذِي أَذْنَبَہٗ، رَفَعَ رَاْسَہٗ إِلَی الْعَرْشِ، فَقَالَ : أَسْأَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ، إِلَّا غَفَرْتَ لِي، فَأَوْحَی اللّٰہُ إِلَیْہِ، وَمَا مُحَمَّدٌ، وَمَنْ مُحَمَّدٌ؟ فَقَالَ : تَبَارَکَ اسْمُکَ، لَمَّا خَلَقْتَنِي رَفَعْتُ رَاْسِي إِلٰی عَرْشِکَ، فَإِذَا فِیہِ مَکْتُوبٌ : لَا إِلَہَ إِلَّا اللّٰہُ،مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰہِ، لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰہِ، فَعَلِمْتُ أَنَّہٗ لَیْسَ أَحَدٌ أَعْظَمَ عِنْدَکَ قَدْرًا مِّمَّنْ جَعَلْتَ اسْمَہٗ مَعَ اسْمِکَ، فَأَوْحَی اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَیْہِ : یَا آدَمُ! إِنَّہٗ آخِرُ النَّبِیِّینَ مِنْ ذُرِّیَّتِکَ، وَإِنَّ اُمَّتَہٗ آخِرُ الْـاُمَمِ مِنْ ذُرِّیَّتِکَ، وَلَوْلَاہُ یَا آدَمُ مَا خَلَقْتُکَ ۔ ’’آدم علیہ السلام سے خطا سر زد ہوئی، تو انہوں نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا عرض گزار ہوئے : یااللہ! میں بحق محمد تجھ سے معافی کا سوال کرتا ہوں ، اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی:محمد کون ہیں ؟ سیدنا آدم علیہ السلام نے عرض کی : یااللہ! تیرا نام پاک ہے۔جب تو نے مجھے پیدا کیا تھا، تو میں نے اپنا سر تیرے عرش کی طرف اٹھایا ۔ وہاں میں نے لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، مُحَمَّدٌ