کتاب: وسیلہ کی شرعی حیثیت - صفحہ 231
عبداللہ بن زبیر!آپ کھڑے ہوں ، کیونکہ آپ ہجرت کے بعد سب سے پہلے پیدا ہونے مسلمان تھے،سیدناعبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کھڑے ہوئے اور رکن یمانی پکڑ کر عرض کی : اللہ! تو بہت بڑا ہے، ہر بڑے معاملے میں تجھ ہی سے امید لگائی جاتی ہے۔میں تجھ سے تیرے چہرے ، تیرے عرش اور تیرے نبی کی حرمت کے طفیل سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے اس وقت تک موت نہ دینا، جب تک میں حجاز کا حکمران نہ بن جاؤں اور مجھے خلیفہ نہ مان لیا جائے۔ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ واپس آکر اپنی جگہ بیٹھ گئے۔ لوگوں نے کہا:مصعب بن زبیر !اب آپ جائیں ۔ وہ گئے اور رکن یمانی پکڑ کر یوں عرض گزار ہوئے : اللہ!تو ہر چیز کا مالک ہے۔ہر چیز تیری ہی طرف لوٹ کر جانے والی ہے۔ میں ہر چیز پر تیری قدرت کے وسیلے سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے اس وقت تک موت نہ آئے، جب تک میں عراق کا حکمران نہ بن جاؤں اور سُکَینہ بنت حسین سے میری شادی نہ ہو جائے۔ وہ آئے اور بیٹھ گئے۔پھر لوگوں نے عبد الملک بن مروان سے کہا ۔ وہ کھڑے ہوئے اور رکن یمانی تھام کر کہا: اللہ! تو ساتوں آسمانوں اور ان ساتوں زمینوں کا مالک ہے، جو پہلے بنجر تھیں اور پھر سرسبز و شاداب ہو گئیں ۔میں تجھ سے اسی طرح سوال کرتا ہوں ، جس طرح تیرے فرمانبردار بندوں نے سوال کیا تھا۔میں تجھ سے تیرے چہرے کی حرمت کے وسیلے، تمام مخلوقات پر تیرے حق کے طفیل اور تیرے گھر کا طواف کرنے والے لوگوں کے واسطے سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے اس وقت تک