کتاب: وسیلہ کی شرعی حیثیت - صفحہ 224
یَا رَبِّ، إِنَّا زُرْنَا قَبْرَ نَبِیِّکَ فَلَا تَرُدَّنَا خَائِبِیْنَ، فَنُوْدِيَ : یَا ہٰذَا مَا أَذِنَّا لَکَ فِي زِیَارَۃِ قَبْرِ حَبِیْبِنَا إِلَّا وَقَدْ قَبِلْنَاکَ فَارْجِعْ أَنْتَ وَمَنْ مَّعَکَ مِنَ الزُّوَارِ مَغْفُوْرًا لَّکُمْ ۔ ’’حاتم اصم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک پر کھڑے ہو کر کہا: اے رب! ہم تیرے نبی کی قبر کی زیارت کے لیے آئے ہیں ، ہمیں نا مراد نہ لوٹانا، آواز آئی: اے فلاں ! ہم نے تمہیں اپنے حبیب کی قبر کی زیارت کی اجازت دی ہے، تو ہم نے اسے قبول بھی کر لیا ہے،تم اور تمہارے ساتھی پلٹ جاؤ، تمہاری بخشش کر دی گئی ہے۔ ‘‘ (المَواہب اللَّدُنِیّۃ للقَسطلاني : 3/597) تبصرہ: اس کی سند معلوم نہ ہو سکی۔ بے سند روایات کا کوئی اعتبار نہیں ۔ دلیل نمبر ۳۵ عبد اللہ بن جعفر بن ابی طالب (80ھ)کہتے ہیں : کُنْتُ إِذَا سَأَلْتُ عَلِیًّا شَیْئًا، فَامْتَنَعَ، قُلْتُ لَہٗ : بِحَقِّ جَعْفَرٍ، فَیُعْطِینِي ۔ ’’میں جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کوئی چیز مانگتا اور وہ نہ دیتے، تو مَیں ان سے کہتا : جعفر کے واسطے! اس پر وہ مجھے دے دیتے۔‘‘ (تاریخ ابن مَعین بروایۃ ابن محرز : 1/168، کتاب الولاۃ للکندي : 21،