کتاب: وسیلہ کی شرعی حیثیت - صفحہ 209
حافظ سیوطی رحمہ اللہ نے ’’کذاب‘‘ قرار دیا ہے۔ (اللّـآلي المصنوعۃ : 2/298) اس کی توثیق ثابت نہیں ۔ دلیل نمبر ۲۷ ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قَالَ دَاوٗدُ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَسْأَلُکَ بِحَقِّ آبَائِي إِبْرَاہِیمَ وَإِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ، فَقَالَ : أَمَّا إِبْرَاہِیمُ، فَاُلْقِيَ فِي النَّارِ فَصَبَرَ مِنْ أَجْلِي، وَتِلْکَ بَلِیَّۃٌ لَمْ تَنَلْکَ، وَأَمَّا إِسْحَاقُ، فَبَذَلَ نَفْسَہٗ لِلذَّبْحِ فَصَبَرَ مِنْ أَجْلِي، وَتِلْکَ بَلِیَّۃٌ لَمْ تَنَلْکَ، وَأَمَّا یَعْقُوبُ، فَغَابَ یُوسُفُ عَنْہُ، وَتِلْکَ بَلِیَّۃٌ لَمْ تَنَلْکَ ۔ ’’داود علیہ السلام نے کہا :اللہ!میں تجھ سے اپنے آبا واجداد، یعنی ابراہیم، اسحاق اور یعقوب علیہ السلام کے وسیلے سے سوال کرتا ہوں ۔ اللہ نے فرمایا : ابراہیم کو آگ میں ڈالا گیا، تو انہوں نے میری خاطر صبر کیا اور آزمائش سے تم دو چار نہیں ہوئے، اسحاق نے اپنے آپ کو ذبح کے لیے پیش کر دیا اور میری خاطر صبر کیا اور یہ مصیبت تجھے نہیں پہنچی۔ یعقوب سے ان کے فرزند یوسف گم ہو گئے۔ اس تکلیف سے تم نہیں گزرے۔‘‘ (مسند البزّار : 1307)