کتاب: وسیلہ کی شرعی حیثیت - صفحہ 188
الَّذِي یَسْتَحِقُّونَہٗ عَلَیْکَ بِمُقْتَضٰی فَضْلِکَ وَوَعْدِکَ وَجُودِکَ وَإِحْسَانِکَ، وَلَا یَلْزَمُ مِنْہُ الْوُجُوبُ الْمُتَنَازَعُ فِیہِ عَلَیْہِ تَعَالٰی، لٰکِنْ لِّإِیہَامِہِ الْوُجُوبَ بِالنَّظَرِ إِلَی الْـأَفْہَامِ الْقَاصِرَۃِ، یَحْتَرِزُ عَنْہُ عُلَمَاوُنَا الْحَنَفِیَّۃُ، وَیَرَوْنَ إِطْلَاقَہٗ لَا یَخْلُو عَنْ کَرَاہَۃٍ ۔ ’’اس روایت میں جو سوالیوں کے حق کا وسیلہ دینے کا ذکر ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ! میں اپنی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لیے تجھے تیرے اس فضل کا واسطہ دیتا ہوں ، جس کا تُو نے انہیں اپنے رحم و کرم اور احسان و وعدہ کے پیش نظر مستحق بنایا ہے۔ ان الفاظ سے اقسام علی اللہ کی متنازع صورت لازم نہیں آتی۔ البتہ کند ذہن لوگوں کو ان الفاظ میں اقسام علی اللہ بخلقہٖ کا وہم ہوتا ہے۔ اسی لیے علمائے احناف اس سے احتراز کرتے ہیں ۔ ان کے خیال میں ان الفاظ کا مطلق استعمال کراہت (تحریمی)سے خالی نہیں ۔‘‘ (حاشیۃ السّندي علی سنن ابن ماجہ : 1/262-261، تحت الحدیث : 778) شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ( 728ھ)فرماتے ہیں : إِنْ کَانَ مِنْ کَلَامِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَہُوَ مِنْ ہٰذَا الْبَابِ لِوَجْہَیْنِ : أَحَدُہُمَا : لِأَنَّ فِیہِ السُّوَالَ لِلّٰہِ تَعَالٰی بِحَقِّ السَّائِلِینَ، وَبِحَقِّ الْمَاشِینَ فِي طَاعَتِہٖ، وَحَقُّ السَّائِلِینَ أَنْ یُّجِیبَہُمْ، وَحَقُّ الْمَاشِینَ أَنْ یُّثِیبَہُمْ، وَہٰذَا