کتاب: وسیلہ کی شرعی حیثیت - صفحہ 181
امام صاحب سے یہ بھی مروی ہے:
لَیْسَ بِہٖ بَاْسٌ ۔
’’اس (سے متابعت وشواہد میں روایت لینے) میں کوئی حرج نہیں ۔‘‘
(التّاریخ لابن طھمان : 256)
امام نسائی رحمہ اللہ نے ’’ضعیف‘‘ کہا ہے۔
(کتاب الضّعفاء والمتروکین : 481)
حافظ ابن حبان رحمہ اللہ نے ان الفاظ کے ساتھ جرح کی ہے :
لَا یَحِلُّ الِاحْتِجَاجُ بِہٖ، وَلَا کِتَابَۃُ حَدِیثِہٖ، إِلَّا عَلٰی جِھَۃِ التَّعَجُّبِ ۔
’’اس کی حدیث سے حجت لینا جائز نہیں ، اسے صرف بطور تعجب لکھنا درست ہے۔‘‘(کتاب المَجروحین : 2/176)
حافظ جوزجانی رحمہ اللہ نے ’’مائل‘‘قرار دیا ہے۔(أحوال الرّجال : 42)
یعنی ان کے نزدیک عطیہ غالی رافضی تھا۔
امام ابنِ عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
ھُوَ مَعَ ضُعْفِہٖ یُکْتَبُ حَدِیثُہ، وَکَانَ یُعَدُّ مِنْ شِیعَۃِ الْکُوفَۃِ ۔
’’ضعیف ہونے کے باوجود اس کی حدیث (متابعات و شواہد)میں لکھی جائے گی۔اس کا شمار کوفہ کے شیعوں میں ہوتا ہے ۔‘‘
(الکامل في ضُعَفاء الرّجال : 5/370)
حافظ بیہقی رحمہ اللہ نے ’’ضعیف‘‘ کہا ہے۔ (السّنن الکبرٰی : 7/369)