کتاب: وسیلہ کی شرعی حیثیت - صفحہ 167
دلیل نمبر 12 سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور ِ خلافت میں قحط سالی واقع ہوئی۔ اس سال کو عام الرمادہ کہتے ہیں ۔ بنو مزینہ نے اپنے ایک آدمی (بلال)سے کہا کہ ہم مرے جارہے ہیں ، کوئی بکری ذبح کیجیے۔اس نے کہا:بکریوں میں کچھ نہیں رہا۔ اصرار بڑھا تو انہوں نے بکری ذبح کر دی۔اس کی کھال اتاری تو نیچے سے سرخ ہڈی نکلی۔یہ دیکھ کر اس نے یَا مُحَمَّدَا کہا۔ رات ہوئی، تو اس نے خواب میں دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں :زندگی مبارک ہو ۔عمر کے پاس جائیں ، اسے میری طرف سے سلام کہیں اور یہ بھی کہیں کہ عمر!آپ تو وعدوں کو خوب نبھانے والے ہیں ، میرا وعدہ یاد کریں ۔ عمر! سمجھداری سے کام لیں ۔ قبیلہ بنو مزینہ کا یہ شخص بیدار ہونے پر عمر رضی اللہ عنہ کے دروازے پر آیا اور دربان سے کہا : قاصد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے عمر رضی اللہ عنہ سے اجازت طلب کریں ۔ دربان نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اطلاع دی تو آپ گھبرا گئے اور فرمایا:اسے بلائیں ۔ جب بلایا گیا، تواس نے سارا واقعہ کہہ سنایا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اعلان کرایا، منبر پر جلوہ افروز ہوئے اور فرمایا : اس ذات کی قسم، جس نے آپ کواسلام کی توفیق بخشی! کیا مجھ میں کوتاہی دیکھی ہے؟ لوگ کہنے لگے : نہیں ، لیکن ہوا کیا؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو بلال کا خواب سنایا۔ لوگ سمجھ گئے، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نہ سمجھ سکے۔ لوگوں نے انہیں بتایا کہ آپ نے نماز استسقاء کی ادائیگی میں تاخیر کی ہے۔ ہمارے ساتھ نماز استسقاء ادا کریں ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اعلان سے لوگوں کو جمع کیا، کھڑے ہو کر مختصر خطبہ دیا، پھرمختصر دو رکعتیں ادا کیں ، پھر بارش کے لیے دُعا فرمائی …۔ (تاریخ الطّبري : 4/99، البِدایۃ والنّھایۃ لابن کثیر : 7/91)